میڈرڈ (شِنہوا) سپین امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی کسی بھی فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسی کارروائیوں کے لئے اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے گا۔ یہ بات وزیر خارجہ جوز مانوئل الباریس اور وزیر دفاع مارگریٹا روبلیس نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہی۔
میڈیا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں الباریس نے بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا اور خبردار کیا کہ تشدد کی منطق صرف مزید کشیدگی کا باعث بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہر ملک اپنی خارجہ پالیسی کے فیصلے خود کرتا ہے، لیکن اس وقت یورپ کی آواز توازن اور اعتدال کی ہونی چاہیے، جو کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کی طرف کام کرے۔
الباریس نے کہا کہ ہسپانوی حکومت اپنے فوجی اڈوں یا تنصیبات کو کسی ایسی کارروائی کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔
ادھر ہسپانوی قومی ٹیلی وژن آر ٹی وی ای کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں روبلیس نے کہا کہ جنوبی سپین میں واقع مورون دے لا فرونتیرا اور روٹا کے فوجی اڈوں نے امریکہ کو کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کی ہے اور نہ ہی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لئے اجازت دی جائے گی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور سپین و امریکہ کے درمیان موجود دوطرفہ معاہدے کے مطابق ہونا چاہیے۔


