ہومانٹرنیشنلزیمبیا کی دریائی آلودگی کے خلاف اقدامات پر چین کمپنی کی تعریف

زیمبیا کی دریائی آلودگی کے خلاف اقدامات پر چین کمپنی کی تعریف

لوساکا(شِنہوا)زیمبیا کی حکومت نے مقامی دریاؤں میں تیزاب اور بھاری دھاتوں کے اخراج کے بعد چینی کان کن کمپنی سینو میٹلز لیچ زیمبیا لمیٹڈ کے تعاون کو سراہاہے۔

یہ آلودگی اس وقت ہوئی جب رواں سال کے آغاز میں شرپسند عناصر نے ڈیم کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا۔

حکومت کے چیف ترجمان کارنیلیئس مویٹوا نے کہا کہ کمپنی فروری کے واقعے کے بعد سے حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور ملکی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں پر عمل کر رہی ہے، جن میں "آلودگی پھیلانے والا ہی خرچ اٹھائے گا”  کا اصول بھی شامل ہے۔

انہوں نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ متاثرہ افراد کو معاوضے کی ادائیگی شیڈول کے مطابق جاری ہے اور کمپنی اثاثوں کے متبادل اور ماحولیاتی صفائی کے اخراجات برداشت کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لئے فوری اقدامات کئے اور متاثرہ علاقوں میں عوام کو محفوظ رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

کارنیلیئس مویٹوا جو اطلاعات و نشریات کے وزیر بھی ہیں، نے کہا کہ لیبارٹری ٹیسٹ سے معلوم ہوا ہے کہ پانی میں پی ایچ کی سطح معمول پر آگئی ہے اور بھاری دھاتوں کی مقدار بتدریج کم ہو رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ انسانوں، جانوروں اور پودوں کے لئے فوری خطرات کم ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب زیمبیا میں امریکی سفارتخانے نے صحت کا انتباہ جاری کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ چمبیشی ٹاؤن اور کاپر بیلٹ صوبے کے دیگر متاثرہ علاقوں سے فوراً نکل جائیں جہاں سینو-میٹلز لیچ زیمبیا لمیٹڈ کی ملکیت والے ڈیمز سے اخراج ہوا تھا۔

چیف ترجمان نے کہا کہ ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ ہنگامی صورتحال کا بٹن دبایا جائے یا عالمی برادری کو پریشان کیا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت نے واقعے کے فوری بعد تیزابیت کے اثرات کو زائل کر دیا تھا۔

مقامی ریڈیو فوئنکس کے مطابق حزب اختلاف کی گرین پارٹی کے رہنما پیٹر سنکامبا نے بھی امریکی اقدام کو صرف سیاسی دکھاوا قرار دیا۔

سنکامبا نے امریکہ کے دوہرے معیار کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کَبوی میں اینگلو امریکن نامی کان کن کمپنی کی وجہ سے ہونے والی سیسے  کی تاریخی آلودگی سے ہزاروں بچے متاثر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے نہ تواس علاقے اپنے اہلکاروں کو نکلنے کے لئے کہا اور نہ ہی سخت اعلانات  جاری کئے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں