ہومانٹرنیشنلملائیشیا اور چین کے مکالمے کے لیے کھلے پن سے تہذیبی تبادلوں...

ملائیشیا اور چین کے مکالمے کے لیے کھلے پن سے تہذیبی تبادلوں کو فروغ ملا

کوالالمپور (شِنہوا) ملائیشیا اور چین کے درمیان مکالمے کے لیے کھلے پن نے تہذیبوں کے تبادلے کو مضبوط بنانے اوراختلافات کے خاتمے کے ذریعےلوگوں کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ملائیشیا میں چینی سفارت خانے کے قونصلر شاؤ لیانگ نے مشرکہ مستقبل میں نوجوانوں کی ذمہ داری، اسلامی-کنفیوشس مکالمہ اور ملائیشیا-چائنہ تعاون کے نئے افق کے عنوان سے منعقدہ فورم میں بتایا کہ چین کا تجویز کردہ عالمی تہذیبی انیشی ایٹو تہذیبوں کے درمیان تبادلوں اور باہم سیکھنے کو فروغ دینے، ایک منصفانہ اور مساوی عالمی نظام کے قیام اور باہمی مفاہمت کو بڑھانے میں نظریاتی اور عملی طور پر اہمیت کا حامل ہے ۔

ملائیشیا-چائنہ فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمجید احمد خان نے کہا کہ ہم ایک انتہائی غیر یقینی عالمی دور میں موجود ہیں۔ انہوں نے عالمی چیلنجز کے جواب میں فوری طور پر تہذیبی مکالمے کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

مجید نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دور کے تقاضوں کو بہادری سے قبول کریں، امن کے نظریات کو فروغ دیں اور ایک جامع اور ہم آہنگ عالمی مستقبل کی تعمیر کے لیے خود کو وقف کریں۔

ملائیشیا کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ریکٹر عثمان بکر نے کہا کہ آج کی تیزی سے متنوع ہوتی ہوئی دنیا میں ملائیشیا اور چین کے درمیان ثقافتی تبادلے اور باہمی مفاہمت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکالمے اور تعاون کے ذریعے نوجوان مختلف تہذیبوں کو جوڑنے والے پل بن سکتے ہیں، اختلافات کو حل کر سکتے ہیں اور مشترکہ اقدار کو فروغ دے سکتے ہیں۔

شریک نوجوان نمائندوں نے عمومی طور پر اس بات سے اتفاق کیا کہ نوجوانوں کو ملائیشیا اور چین کے درمیان ثقافتی تبادلوں اور تہذیبی مکالمے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں