لیما (شِنہوا) چین میں پیرو کے سابق سفیر جوان کارلوس کاپونائے نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے حالیہ برسوں میں پیرو کے لئے کی جانے والی معاونت نے جنوبی امریکی ملک کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
جوان کارلوس کاپونائے، جو 2014 سے 2017 تک چین میں پیرو کے سفیر رہے، نے حال ہی میں شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قربت کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسا فطری تعلق ہے جو اپنی رفتار اور سمت کے ساتھ خود پروان چڑھا ہے۔کاپونائے نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی ترقی غیر معمولی رہی ہے اور اسے سب سے پہلے تاریخی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ "چین اور پیرو کے درمیان ثقافتی امتزاج نے ایسی روایات، الفاظ اور طرز عمل کو جنم دیا ہے جنہیں چین-پیرو ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "اس سے پیرو کے عوام چینی عوام کے مزید قریب آئے ہیں۔”
کاپونائے نے کہا کہ پیرو میں بنیادی ڈھانچے، سائنس، ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبوں میں چین کی سرمایہ کاری نے ملک کی برآمدی اور تجارتی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مدد دی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر چانکائے میگا بندرگاہ کے منصوبے کو نمایاں قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پیرو کے وسطی ساحل پر واقع یہ میگا بندرگاہ مقامی سطح پر روزگار کے وسیع مواقع پیدا کر رہی ہے اور پیرو کی برآمدات کو ایشیائی منڈیوں سے جوڑنے میں نہایت اہم تزویراتی کردار ادا کر رہی ہے۔


