جکارتہ (لارڈ میڈیا): غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے قافلے میں شامل نو انڈونیشی شہریوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم اور دیگر الزامات پر باضابطہ شکایت دائر کر دی ہے۔ انڈونیشیا کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں جمع کرائی گئی شکایت میں اسرائیل اور نیتن یاہو کے خلاف قانونی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ نو افراد مئی میں گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے، جسے اسرائیلی فورسز نے روک کر قبضے میں لے لیا تھا۔ اس دوران 400 سے زائد بین الاقوامی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔
درخواست گزاروں کے وکیل کافن محمد نے کہا کہ شکایت میں سمندری قزاقی، انسانیت کے خلاف جرائم اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات شامل کیے گئے ہیں۔ انڈونیشیا کے فوجداری قانون کے تحت بعض بین الاقوامی جرائم پر یونیورسل جیورسڈکشن لاگو ہوتی ہے، جس کے تحت انڈونیشی عدالتیں ملک سے باہر ہونے والے سنگین جرائم کی سماعت کر سکتی ہیں۔
وکیل کے مطابق شکایت میں نیتن یاہو کا نام بطور اسرائیلی مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈر شامل کیا گیا ہے۔ درخواست میں ان رضاکاروں کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں، جنہوں نے اسرائیلی حراست کے دوران بدسلوکی کا دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کی جانب سے امدادی قافلے کے کارکنوں کے ساتھ کیے گئے سلوک پر عالمی سطح پر تنقید بھی کی گئی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ایک اسرائیلی وزیر نے رضاکاروں کی ایسی ویڈیو جاری کی جس میں انہیں ہاتھ باندھ کر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق فرانس، اٹلی اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک بھی اس واقعے کے حوالے سے عدالتی تحقیقات شروع کر چکے ہیں۔ اسرائیل 2007 سے غزہ میں داخلے اور باہر جانے کے تمام اہم زمینی اور بحری راستوں پر کنٹرول رکھے ہوئے ہے، جبکہ غزہ کی صورتحال اور انسانی امداد کی فراہمی عالمی سطح پر بحث کا موضوع ہے۔


