شنگھائی (شِنہوا) چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے شنگھائی میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی جو کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن بھی ہیں، نے اسحاق ڈار کا خیرمقدم کیا جو عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس میں شرکت اور پاکستانی حکومت کی جانب سے مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم (ڈبلیو اے آئی سی او) کے قیام کے معاہدے پر دستخط کے لئے چین کے دورے پر ہیں۔
وانگ یی نے کہا کہ پاکستان کی ڈبلیو اے آئی سی او میں شمولیت پاکستان اور وہاں کے عوام کے طویل المدتی مفاد میں ہے۔
وانگ یی نے مزید کہا کہ ایک ذمہ دار بڑی طاقت کے طور پر چین ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر اس تنظیم کا قیام عمل میں لا رہا ہے جس کا مقصد بین الاقوامی اتفاق رائے پیدا کرنا، عملی تعاون کو فروغ دینا اور استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ تمام ممالک خاص طور پر ترقی پذیر دنیا مصنوعی ذہانت کے فوائد سے یکساں طور پر بہرہ مند ہو سکیں۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین اور پاکستان کو اپنے رہنماؤں کے مابین طے پانے والے اہم نکات پر مل کر عمل کرنا چاہیے اور چین۔ پاکستان مشترکہ مستقبل کی تشکیل کے عمل کو تیز کرنا چاہیے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ چین کی تجویز سے ڈبلیو اے آئی سی او کا قیام ایک شاندار اقدام ہے اور پاکستان اس تنظیم کا بانی رکن بننے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین کے ساتھ تعاون مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
نائب وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے ملک میں موجود چینی شہریوں، اداروں اور منصوبوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے ہر ممکنہ اقدام کرے گا تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔


