شنگھائی (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ دنیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجیز میں جدت کے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جو ماضی میں کبھی نہیں دیکھا گیا اور یہ ترقی جہاں بے شمار مواقع لے کر آئی ہے وہیں نظم و نسق کے حوالے سے نئے چیلنجز بھی لا رہی ہے۔
شنگھائی میں 2026 کی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس اور مصنوعی ذہانت کے عالمی نظم و نسق سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے اپنے کلیدی خطاب میں شی جن پھنگ نے کہا کہ انسانیت کو اس دور کے اہم سوالات کے جوابات دینا ہوں گے۔
شی نے سوالات اٹھائے کہ انسان سوچنے کی صلاحیت رکھنے والی مشینوں کے ساتھ کس طرح ہم آہنگی سے رہ سکتا ہے، الگورتھمز کی جانب سے فیصلہ سازی میں حصہ لینے کی صورت میں سلامتی کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے، ٹیکنالوجی سے جنم لینے والے اخلاقی چیلنجز کا موثر اور ہم آہنگ طرز حکمرانی کے ذریعے کس طرح مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور جب ڈیجیٹل و تکنیکی خلیج مسلسل وسیع ہو رہی ہو تو مصنوعی ذہانت کے فوائد سب کے لئے کیسے یقینی بنائے جا سکتے ہیں۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ یہ ایسے بنیادی سوالات ہیں جن پر پوری عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا اور ان کے موثر جوابات تلاش کرنا ہوں گے۔


