تہران (لارڈ میڈیا) آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ تہران کے بعد قم میں بھی ادا کی گئی۔ لاکھوں افراد نے اس تاریخی جلوس میں شرکت کی۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار ارکان کی نماز جنازہ قم شہر کے مضافات میں مسجد جمکران میں ادا کی گئی۔ ایجنسی کی طرف سے جاری کی گئی ویڈیو میں مسجد میں سوگواروں کا بڑا ہجوم دیکھا جا سکتا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سابق سپریم لیڈر کے جسد خاکی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے تہران سے قم پہنچایا گیا، جہاں جنازے کا جلوس نکالا گیا۔ ایران میں چھ روزہ سرکاری سوگ کی تقریبات جاری ہیں، جن کا اختتام مشہد میں تدفین کے ساتھ ہوگا۔
گزشتہ روز تہران میں لاکھوں لوگوں نے جنازے اور جلوس میں شرکت کی۔ ایک بڑے ٹرک پر آیت اللہ علی خامنہ ای اور اُن کے خاندان کے افراد کے جسد خاکی رکھے گئے، جو حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔
جنازے میں شریک حامد نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کو تقسیم کرنا چاہتے تھے، لیکن ہمارے رہنما نے اس کو روکا۔ سوگوار مرضیہ نے کہا کہ ہم یہاں وفاداری کا عہد دہرانے آئے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے اور موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جنازے میں نظر نہیں آئے۔ تہران یونیورسٹی کے ریسرچ فیلو محمد اسلامی نے بتایا کہ وہ جنگ کے باعث شریک نہیں ہو سکے۔
ایمرجنسی سروسز کے سربراہ جعفر میاد فر نے بتایا کہ 34 ہزار سے زیادہ شرکاء کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ہم ایران کی ترقی کا راستہ جاری رکھیں گے۔
قم میں رسومات کے بعد، بدھ کو جسد خاکی عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، اور جمعرات کو مشہد میں تدفین کی جائے گی۔


