قاہرہ (لارڈ میڈیا): مصر کے مغربی صوبے نیو ویلی میں ایک قدیم شہر دریافت ہوا ہے جو چوتھی صدی عیسوی کے بازنطینی دور سے تعلق رکھتا ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ نے شہر میں رہائشی و مذہبی عمارات، جن میں ایک گرجا گھر بھی شامل ہے، دریافت کی ہیں۔
مصری وزارت سیاحت نے بتایا ہے کہ یہ شہر ایک نخلستان میں واقع ہے اور اس میں روزمرہ زندگی، شہری ترقی اور اقتصادی سرگرمیوں کی تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں۔ شہر میں شاہراؤں کے ذریعے علاقوں کو ملایا گیا اور عوامی مقامات بھی موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق شہر کے قلب میں ایک گرجا گھر واقع ہے جبکہ دو واچ ٹاورز کے آثار بھی ملے ہیں جو ممکنہ طور پر شہر کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے۔ شہر میں موٹی حفاظتی دیواروں کے ساتھ ایک بڑا اسٹرکچر، استقبالیہ ہالز اور محرابی چھتوں کے ساتھ متعدد گھر بھی دریافت ہوئے ہیں۔
ماہرین نے وہاں سکے، مٹی کے برتن، چولہے، کچن، کانسی کے سکے اور پیسنے کے اوزار بھی دریافت کیے۔ ان سکوں پر بازنطینی شہنشاؤں کی تصاویر، لاطینی زبان کے الفاظ اور مسیحی علامات موجود ہیں۔ سونے کے سکوں پر رومی شہنشاہ قسطنطینوس دوم کے عہد کا ذکر ہے۔
اس کے علاوہ اسکندریہ کے مغرب میں 62 میل دور 18 تاریخی مقبرے بھی دریافت ہوئے ہیں، جن میں چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے 11 مقبرے اور 7 چونے کے پتھروں سے تعمیر شدہ مقبرے شامل ہیں۔ ان سے مٹی کے گھڑے، لیمپ، پلیٹیں اور چونے کے پتھر سے بنے برتن بھی ملے ہیں۔


