کراچی (لارڈ میڈیا): سندھ ہائی کورٹ نے کسٹمز حکام کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات سے منسلک نجی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ضبط شدہ ڈیزل، آئل ٹینکرز اور سیل کی گئی املاک فوری طور پر واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کسٹمز اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کا مقدمہ کالعدم قرار دے دیا۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کسٹمز حکام نے 8 لاکھ 90 ہزار لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی منتقلی کا الزام عائد کیا تھا، جبکہ تمام لین دین سرکاری نیلامی اور قانونی ادائیگی کے ذریعے کیا گیا تھا۔ وکیل کے مطابق کسٹمز اہلکار متعدد بار بغیر سرچ وارنٹ کمپنی کے احاطے میں داخل ہوئے۔
کسٹمز حکام نے عدالت میں کہا کہ کیماڑی میں دو آئل ٹینکرز کو روک کر ان کی تلاشی لی گئی تھی جہاں ڈرائیوروں نے ڈلیوری آرڈرز کو دوبارہ استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔ سرکاری وکیل کا مؤقف تھا کہ کارروائی قانون کے مطابق تھی اور فوری حالات میں سرچ وارنٹ حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ مقدمہ 4 روز کی تاخیر سے درج کیا گیا اور بنیادی تقاضے ایف آئی آر میں شامل نہیں تھے۔ عدالت نے کہا کہ کسٹمز ایکٹ کے تحت سرچ وارنٹ حاصل کرنا لازمی ہے اور ہنگامی حالات میں ہی بغیر وارنٹ کارروائی کی جا سکتی ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ کسٹمز حکام ڈلیوری آرڈر جاری کرنے والے اداروں کے افسران کے بیانات قلمبند کرنے میں ناکام رہے اور درخواست گزاروں کی دستاویزات قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسٹمز حکام کا پیٹرولیم مصنوعات کے غیر قانونی ذرائع سے حاصل ہونے کا دعویٰ ثابت نہیں ہوا۔


