ایودھیا (لارڈ میڈیا): بھارت کے ایودھیا میں بنے رام مندر کے چندے میں کروڑوں روپے کے گھپلے کا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے ملک بھر میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ یہ مندر بابری مسجد کی جگہ پر بنایا گیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ڈھائی سال قبل اس کا افتتاح کیا تھا۔
الزام ہے کہ مندر کے مینیجرز نے عوام کے دیے گئے لاکھوں ڈالر کے چندے اور سونے چاندی کے نذرانے غائب کر دیے۔ ایودھیا کے مقامی شہری برجیش کمار نے میڈیا کو بتایا کہ مندر کے مینیجرز نے ان کے ایمان کو لوٹا ہے۔
تنازع اس وقت شروع ہوا جب مندر کے حساب کتاب کے سپروائزر مہیپال سنگھ نے ہیرا پھیری کا انکشاف کیا۔ اپوزیشن رہنما اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ مندر سے کروڑوں روپے غائب ہیں۔
مودی کی بی جے پی حکومت نے عوامی دباؤ کے تحت تفتیشی ٹیم بنائی اور پولیس نے مندر کے عملے کے آٹھ افراد کو گرفتار کیا۔ مندر ٹرسٹ کے سیکریٹری چمپت رائے نے استعفیٰ دیا۔
کٹر ہندو رہنما سنتوش دوبے نے اس چوری پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چوروں کے لیے پھانسی کی سزا بھی کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس غصے کو دبا نہیں پائے گی۔
اپوزیشن رہنما اکھلیش یادو نے حکومت پر بڑے چوروں کو بچانے کا الزام لگایا اور مطالبہ کیا کہ تفتیش صاف شفاف انداز میں پیش کی جائے۔ مذہبی پیشوا کارپاتری مہاراج نے بھی حکومت پر چھوٹے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنانے کا الزام لگایا۔
ماہرین کے مطابق آنے والے اتر پردیش کے انتخابات میں یہ اسکینڈل مودی حکومت کے لیے بڑا سیاسی جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ مندر ہمیشہ ووٹ کے لیے استعمال ہوتا آیا ہے۔


