لاہور (لارڈ میڈیا): حکومت پنجاب کے محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، محمود علی کو لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کا رجسٹرار 3 سال کی مدت کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس تقرری پر تعلیمی حلقوں میں میرٹ، شفافیت اور خواتین کی قیادت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سلیکشن کے عمل میں میرٹ کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ شارٹ لسٹ کئے گئے امیدواروں میں شامل ایک اہل خاتون، جو دوسرے نمبر پر تھیں، کو نظرانداز کر کے پانچویں نمبر پر موجود امیدوار کو منتخب کیا گیا۔ وائس چانسلر کے مبینہ گٹھ جوڑ اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر سلیکشن کے نتائج تبدیل کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق کسی ویمن یونیورسٹی میں اعلیٰ انتظامی عہدوں کے لیے قابل خاتون امیدوار کو نظرانداز کرنا ادارے کے بنیادی مقصد اور خواتین قیادت کے فروغ سے متصادم ہے۔ تعلیمی حلقوں کا مؤقف ہے کہ خواتین کی جامعات انہیں قیادت اور فیصلہ سازی کے اعلیٰ مناصب تک پہنچانے کے لیے قائم کی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر میرٹ پر موجود خاتون امیدوار کو نظرانداز کیا گیا تو یہ فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خواتین کو بااختیار بنانے کے وژن سے بھی متصادم ہے۔ تقرری کا عمل شفاف اور میرٹ پر مبنی ہونا چاہیے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی موقف جاری نہیں کیا گیا۔


