گیتیگا (شِنہوا) افریقی یونین (اے یو) کے موجودہ چیئرمین اور برونڈی کے صدر ایوارسٹ ندایشی میئے نے کہا ہے کہ افریقہ اور چین کے تعلقات باہمی احترام، یکجہتی اور مشترکہ فوائد پر مبنی جنوب-جنوب تعاون کی ایک مثال ہیں۔
برونڈی کے سیاسی دارالحکومت گیتیگا میں شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ندایشی میئے نے کہا کہ 2026 چین اور افریقی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ کا سال ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70 برسوں کے دوران عالمی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں کے باوجود افریقہ اور چین اخلاص اور اعتماد کے ساتھ مل کر آگے بڑھتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افریقہ اور چین کے تعلقات کی ایک مضبوط تاریخی بنیاد موجود ہے جو نہ صرف افریقی اور چینی عوام کے درمیان گہری دوستی پر قائم ہے بلکہ مشترکہ اقدار پر بھی مبنی ہے۔ ان میں ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور باہمی فائدے پر مبنی تعاون، نیز ایسے پرامن عالمی نظام کا فروغ شامل ہے جہاں بین الاقوامی قانون اور مذاکرات کو تنازعات پر ترجیح حاصل ہو۔
یکم مئی سے چین نے ان 53 افریقی ممالک کی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی ختم کر دی ہے جن کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ یہ سہولت پہلے یکم دسمبر 2024 سے برونڈی سمیت 33 افریقی ممالک کی تمام مصنوعات کے لئے دی گئی تھی جسے اب مزید وسعت دے دی گئی ہے۔
ندایشی میئے نے کہا کہ چین کی زیرو ٹیرف پالیسی افریقی ممالک، بالخصوص برونڈی کے لئے اہم مواقع فراہم کرتی ہے، جس سے ہماری مصنوعات کی آمدنی میں اضافہ، نوجوانوں کے لئے پائیدار روزگار کے مواقع کی تخلیق اور سب سے بڑھ کر مقامی پراسیسنگ کی ترقی ممکن ہوگی تاکہ اضافی فائدہ افریقی براعظم ہی میں رہے۔
ستمبر 2024 میں برونڈی اور چین نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو جامع تزویراتی شراکت داری کی سطح تک بلند کیا تھا۔ اس حوالے سے ندایشی میئے نے کہا کہ برونڈی اور چین کے عوام کے لئے اس پیش رفت کا مطلب زیادہ اقتصادی مواقع، ترقیاتی منصوبے، تعلیمی اور تکنیکی تعاون اور عوامی روابط میں مزید استحکام کی صورت میں سامنے آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ زراعت دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم شعبہ ہے۔ چینی ماہرین کی معاونت سے برونڈی میں چاول کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی غذائی اور غذائیت کی سلامتی بہتر ہوئی ہے اور چاول کاشت کرنے والے خاندانوں کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

برونڈی کے شہر بوجمبورا میں چینی زرعی ماہر یانگ ہوا دے (دائیں سے تیسرے) مقامی افراد کے ساتھ چاول کی فصل کا جائزہ لے رہے ہیں-(شِنہوا)
صدر نے کہا کہ چینی ماہرین نے اپنی مہارت اور تجربات منتقل کرتے ہوئے برونڈی کے متعدد نوجوانوں کو چاول کی جدید کاشت، زرعی مشینی نظام اور فصل کی کٹائی کے بعد کی عمل کی تربیت فراہم کی ہے۔
چین کے کئی دورے کرنے والے ندایشی میئے نے کہا کہ چین نے ان پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا جو اپنے مستقبل پر خود اختیار رکھتے ہیں، جنہیں غیر معمولی اجتماعی نظم و ضبط اور ترقی کی خواہش نے متحرک کر رکھا ہے۔ میں نے ایک ایسے صدر کو دیکھا جو اپنی عوام کی ترقی، ان کے مفادات کے تحفظ اور ایک زیادہ منصفانہ اور کثیر سمتی دنیا کے فروغ کے لئے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔
ندایشی میئے کے مطابق چین کی جدت انسانی تاریخ کی عظیم ترین ترقیاتی داستانوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا، عالمی معیار کی بنیادی سہولتیں تعمیر کیں، جدید صنعت اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیا اور اپنی معیشت کو دنیا کی صف اول کی معیشتوں میں شامل کر دیا۔
ندایشی میئے نے کہا کہ افریقہ-چین شراکت داری ایک خودمختار، صنعتی اور خوشحال افریقہ کی جانب پیش قدمی کا وژن رکھتی ہے جو ایک عظیم اور باوقار چین کے ساتھ مل کر آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کا تصور ہے۔


