نان چھانگ (شِنہوا) کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے 105ویں یوم تاسیس کے موقع پر پاکستان کے یونیورسٹی آف سرگودھا میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنہ سٹڈیز اورکنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر طاہر ممتاز اعوان ایک خصوصی منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ وہ جیانگ شی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے چین کی سرخ ثقافت کی بین الاقوامی تشہیر کے حوالے سے چینی اور انگریزی زبانوں پر مشتمل ایک دو لسانی ریڈر بک کی مشترکہ تدوین کر رہے ہیں۔
پروفیسر اعوان نے کہا کہ "پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے ہٹ کر ہمیں ایک ‘روحانی راہداری’ کی ضرورت ہے اور سرخ ثقافت ہی دراصل وہ راہداری ہے”۔
پروفیسر اعوان نے بتایا کہ چینی ثقافت کے لئے ان کی دلچسپی کا آغاز 2012ء میں ہوا، جب وہ پہلی بار تیانجن نارمل یونیورسٹی سے 3 ماہ کے مختصر دورانیے کے کورس کے ذریعے چینی زبان سیکھنے تیانجن پہنچے۔ زبان کا یہ کورس مکمل کرنے کے بعد وہ گوانگ ژو چلے گئے، جہاں انہوں نے سن یات-سین یونیورسٹی کے بزنس سکول سے 2017ء میں مارکیٹنگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ چین میں اپنے 5 سالہ تعلیمی سفر کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عرصہ نہ صرف علمی طور پر فائدہ مند تھا بلکہ اس نے ان کی ثقافتی سوچ کو بھی بدل دیا جس کی بدولت وہ چینی معاشرے، روایات اور علمی افکار کے مختلف پہلوؤں کا قریب سے مشاہدہ کرنے اور انہیں خود میں جذب کرنے کے قابل ہوئے۔
چین میں قیام کے دوران ڈاکٹر اعوان نے ملک کے تقریباً 70 فیصد صوبوں کا وسیع سفر کیا، جس سے انہیں وہاں کے علاقائی تنوع اور بھرپور ثقافت کو خود دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے خصوصاً چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی کا 4 سے 5 بار دورہ کیا، جس کے بعد اس خطے کے انقلابی ورثے کے ساتھ ان کا ایک گہرا علمی اور جذباتی تعلق قائم ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ "جیانگ شی کی مرچیں جس قدر تیز ہیں، اس کی سرخ ثقافت بھی اتنی ہی پرجوش اور طاقتور ہے۔ یہ تاریخ میں گہری جڑیں رکھتی ہے، لیکن آج بھی نئی نسلوں کو مسلسل متاثر کر رہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "جیانگ شی کا ہر دورہ مجھے یہ احساس دلاتا رہا کہ سرخ ثقافت محض کتابوں میں درج تاریخ نہیں، بلکہ ایک زندہ قوت ہے جو آج بھی شناخت، استقامت اور قومی جذبے کی تشکیل میں کردار ادا کر رہی ہے۔” انہوں نے جنگ گانگ شان، جو "چینی انقلاب کی جائے پیدائش” کے طور پر جانا جاتا ہے، کو جدید چینی تاریخ کی ایک انتہائی علامتی اور اہم جگہ قرار دیا۔
پاکستان واپس آنے کے بعد بھی ڈاکٹر اعوان نے چین کے ساتھ اپنے قریبی علمی روابط برقرار رکھے ہیں۔ گزشتہ برس 2025ء کی گرمیوں میں انہیں جیانگ شی میں سرخ ثقافت کی بین الاقوامی تشہیر پر منعقدہ ایک بین الاقوامی سمپوزیم میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ چین، پاکستان، کینیڈا اور دیگر ممالک کے 80 سے زائد سکالرز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے "ثقافتی مکالمے کے ذریعے سرخ ثقافت کے بارے میں نوجوانوں کی سمجھ بوجھ کو فروغ دینا” کے عنوان سے کلیدی تقریر کی، جس میں انہوں نے دونوں ممالک کے نوجوانوں کے مابین سرخ ثقافت کی باہمی سمجھ بوجھ اور اعتراف کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ان کے نزدیک، یہ محض ایک علمی بحث نہیں ہے بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان ایک ایسا نیا رشتہ بننا ہے جو معاشی تعاون سے آگے بڑھ کر روح کو چھو لیتا ہے۔

طاہر ممتاز اعوان کا جیانگ شی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سکالرز کے ساتھ گروپ فوٹو ۔(شِنہوا)
اس سال اپریل میں پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے چین کا دورہ کیا اور شاؤشان میں ماؤ زے دونگ کے مجسمے پر حاضری دی اور ماؤ زے دونگ میموریل ہال میں پھول چڑھائے۔
ڈاکٹر اعوان نے اس کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ "کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی قومی آزادی اور مصائب کے دوران عوامی نجات کے لئے عظیم جدوجہد اور نوآبادیاتی راج کے خلاف پاکستان کی تحریک آزادی دونوں ہی آزادی اور خود انحصاری کے لئے ایک اٹل لگن اور ملک و قوم کے لئے قربانی کے عظیم جذبے کی عکاسی کرتی ہیں”۔
انہوں نے مستقبل کے تعلیمی اور ثقافتی تبادلوں کی تشکیل میں اس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ "قومی احیا کا یہ مشترکہ نظریہ مجھے یقین دلاتا ہے کہ سرخ ثقافت دونوں ممالک کے نوجوانوں کے لئے ایک دوسرے کی تاریخ اور اقدار کو سمجھنے کی کلید بن سکتی ہے۔”
اسی وژن کے تحت ڈاکٹر اعوان نے ان خیالات کو ٹھوس علمی اور ثقافتی عمل میں بدل دیا ہے۔ وہ جیانگ شی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر ہوانگ چھیووین سمیت دیگر چینی سکالرز کے ساتھ مل کر ‘ریڈر آن دی انٹرنیشنل کمیونیکیشن آف ریڈ کلچر’ کی تالیف پر کام کر رہے ہیں۔ یہ کتاب آسان علمی زبان میں چین اور پاکستان کی سرخ ثقافت کے مفہوم، تاریخی ارتقا اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت کو واضح کرتی ہے اور اس کا مقصد ماہرین تعلیم اور عام قارئین دونوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ یہ کتاب رواں سال کی دوسری ششماہی میں چین اور پاکستان میں بیک وقت شائع کی جائے گی۔
ڈاکٹر اعوان نے کہا کہ "یہ صرف ایک کتاب نہیں ہے، بلکہ افہام و تفہیم کا ایک پل ہے۔ ایک ایسا پل جو نہ صرف تعلیمی اداروں کو جوڑتا ہے، بلکہ سرحدوں کے آر پار ذہنوں، یادوں اور نظریات کو بھی یکجا کرتا ہے”۔ اس سے قبل وہ ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو’ جیسے موضوعات پر چینی سکالرز کے ساتھ مل کر متعدد علمی کتب لکھ چکے ہیں، جس سے تقابلی علاقائی مطالعات میں ان کا کردار مزید مستحکم ہوا ہے۔
اس کتاب کے علاوہ ڈاکٹر اعوان نے اس سال ستمبر میں اسلام آباد میں چینی سرخ ثقافت پر ایک بڑی نمائش منعقد کرنے کے پرعزم منصوبوں کا بھی انکشاف کیا۔ اعوان نے تاریخی داستانوں کو عوام کے لئے ایک زندہ تجربے میں بدلنے کی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم جنگ گانگ شان کی ‘چنگاری’ کو اسلام آباد لے کر آئیں گے”۔ اس نمائش میں ڈیجیٹل تنصیبات اور تاریخی نوادرات پیش کئے جائیں گے، جو انقلاب، تعمیر نو اور اصلاحات کے مراحل سے گزرنے والے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے سفر کو اجاگر کریں گے اور اس کے بدلتے ہوئے طرز حکمرانی اور ترقیاتی فلسفے پر روشنی ڈالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ "میں چاہتا ہوں کہ پاکستانی عوام دیکھیں کہ چین کس طرح ایک غریب اور پسماندہ ملک سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گیا اور اس تبدیلی کے پیچھے کارفرما وہ روحانی طاقت کیا ہے جو قابل تقلید ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سفر کو سمجھنا پائیدار ترقی کے خواہاں ترقی پذیر معاشروں کے لئے قیمتی اسباق فراہم کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "سی پیک ترقی کو آگے بڑھاتا ہے، لیکن ثقافتی اور روحانی تبادلے ہماری دوستی کو مضبوط اور پائیدار بناتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ صرف بنیادی ڈھانچے کے منصوبے طویل مدتی شراکت داری کو برقرار نہیں رکھ سکتے، جب تک کہ ان کے ساتھ گہرے انسانی، فکری اور ثقافتی روابط بھی موجود نہ ہوں۔


