ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکماحول دوست، اختراعی اور جامع تعاون چین-پاکستان تعلقات کا ستون، دوطرفہ روابط...

ماحول دوست، اختراعی اور جامع تعاون چین-پاکستان تعلقات کا ستون، دوطرفہ روابط نئے مرحلے میں داخل

بیجنگ (شِنہوا) بیجنگ میں پاک- چین تھنک ٹینک فورم میں شرکت کرنے والے ماہرین اور سفارت کاروں کا کہناہے کہ جیسے جیسے چین اور پاکستان اپنے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں دونوں ممالک دوطرفہ تعاون کو ماحول دوست، اختراعی اور جامعیت پر مبنی ایک اعلیٰ معیار کے ماڈل کی طرف آگے بڑھا رہے ہیں۔

چینی اکیڈمی آف سوشل سائنسز (سی اے ایس ایس)کے ماتحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹریٹجی کے زیر اہتمام منعقدہ اس تقریب میں چین میں پاکستان کے سابق سفیر خالد محمود نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی جانب سے پیش کردہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور دیگر عالمی اقدامات اس ہیجان انگیز دور میں انتہائی ناگزیر اعتماد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ شراکت داری مشاورت، تعاون اور باہمی احترام کے اصولوں کے تحت آگے بڑھی ہے جنہیں دونوں ممالک انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔

ان مشترکہ تصورات کو چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے، جو تیزی سے اپنے پہلے مرحلے 1.0 سے دوسرے مرحلے 2.0 کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ اس تبدیلی کا محور بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی رکاوٹوں کو دور کرنے سے آگے بڑھ کر نرم رابطہ کاری اور صنعتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ماہرین کے مطابق راہداری کی اپ گریڈیشن چین اور پاکستان کے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تعمیر کے لئے ایک اہم محرک کا کردار ادا کر رہی ہے۔

روایتی زرعی تعاون بھی رفتار پکڑ رہا ہے۔ سی اے ایس ایس کے محقق یانگ چھاؤ نے مرچوں کی کاشت کے ایک منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس نے گندم کی کاشت کے مقابلے میں کسانوں کی آمدنی کو دگنا یا تگنا کر دیا ہے۔ دونوں حکومتوں کی جانب سے سی پیک کے تحت ایک فلیگ شپ زرعی اقدام کے طور پر تسلیم کیا جانے والا یہ منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ دوطرفہ تعاون اب دیہی ترقی اور عوامی سطح کے رابطوں اور تبادلوں تک پھیل رہا ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چین کو پاکستان کی 10 بڑی برآمدات میں زرعی مصنوعات کا حصہ 26 فیصد ہے جس سے پاکستان کے لئے تقریباً 50 کروڑ امریکی ڈالر کا تجارتی منافع پیدا ہو رہا ہے۔

ماحول دوست ترقی ایک اور اہم شعبہ ہے جو اپ گریڈیشن کے اس عمل کو تیز کر رہا ہے۔ بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن اعزاز خان نے ماحول دوست توانائی اور موسمیاتی لچک کو مستقبل کے تعاون کے لئے انتہائی اہم شعبے قرار دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ قابل تجدید توانائی میں چین کی قیادت پائیدار ترقی کے لئے ایک قابل عمل راستہ فراہم کرتی ہے اور تجویز دی کہ سولر اور ونڈ فارمز کے ذریعے سی پیک کے ماحول دوست منصوبوں کو وسعت دینے سے روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

اس بات کی تائید اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کی محقق نیلم نگار نے بھی کی۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کے تھرمل پر منحصر بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے مزید تعاون کیا جائے اور ملک بھر میں شمسی توانائی کے نیٹ ورکس قائم کئے جائیں تاکہ لاگت کم ہو اور نظام زیادہ مستحکم ہو سکے۔ نگار نے مزید کہا کہ پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز کو ماحول دوست صنعتی پارکس میں تبدیل کرنا ضروری ہے تاکہ پائیدار صنعتی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ڈیجیٹل معیشت کے شعبے میں دونوں ممالک پاکستان کے ٹیک سیکٹر کو آگے بڑھانے کے لئے 5 جی اور مصنوعی ذہانت میں چین کی مہارت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اعزاز خان نے کہا کہ ڈیجیٹل تفریق کو ختم کرنے کے لئے ڈیجیٹل خواندگی کے پروگرام ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مثال کے طور پر چینی کمپنی ہواوے پہلے ہی ہزاروں مقامی پیشہ ور افراد کو ٹیلی کمیونیکیشن کی مہارتوں کی تربیت دے چکی ہے اور علی بابا اور پاکستان کے سرکاری محکموں کے درمیان حال ہی میں دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کا مقصد جدید ٹیکنالوجیز میں مقامی سٹارٹ اپس کو بااختیار بنانا ہے۔

ماہرین خلائی تحقیق اور جدید مینوفیکچرنگ جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں بھی مستقبل کے تعاون کی توقع کر رہے ہیں۔ اس سال کے شروع میں چین نے اعلان کیا تھا کہ چینی خلائی سٹیشن کا دورہ کرنے والا پہلا غیر ملکی خلانورد پاکستان سے ہوگا، جو ہائی ٹیک تعاون میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

نیشنل ڈیویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے محقق ماؤ کے جی نے کہا کہ مینوفیکچرنگ تعاون اب صرف برآمدات پر مبنی ماڈلز سے نکل کر خصوصی اقتصادی زونز کے فوائد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرون ملک سپلائی چینز بنانے کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ انہوں نے الیکٹرانکس اسمبلی کو ایک اہم شعبہ قرار دیا جو پاکستان کو نئی توانائی گاڑیوں، سولر پینلز اور کنزیومر الیکٹرانکس میں ایک صنعتی طاقت میں تبدیل کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

دونوں ممالک نے ایک مشترکہ عزم کے ساتھ عالمی نظم ونسق کو بھی گہرا کیا ہے۔ اس سال کے شروع میں دونوں فریقوں نے خلیج اور مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن و استحکام کے لئے ایک مشترکہ اقدام جاری کیا تھا۔ فلموں کی مشترکہ پروڈکشن اور عوامی سطح کے تبادلوں، خاص طور پر تعلیم اور انسانی وسائل کے شعبوں میں ثقافتی روابط نے بھی نمایاں ترقی کی ہے کیونکہ دوطرفہ تعلقات اب تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے دونوں ممالک آنے والی دہائیوں کی طرف دیکھ رہے ہیں، سی پیک 2.0 کی اپ گریڈیشن محض ایک اقتصادی خاکہ نہیں ہے بلکہ یہ ان کی سدابہارا تزویراتی شراکت داری کا ایک گہرا ارتقا ہے۔ مشترکہ مستقبل کے حامل اپنے اس رشتے کو گہرا کرتے ہوئے چین اور پاکستان جنوب-جنوب تعاون کے لئے ایک نیا معیار قائم کر رہے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں