اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اہم امدادی گزرگاہوں کی بندش کے بعد اسرائیل پر زور دیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے لئے انسانی امداد کی رسائی دوبارہ بحال کی جائے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق اتوار کی رات ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد اسرائیلی حکام نے متعدد سرحدی گزرگاہیں بند کر دیں جن میں کریم شالوم /کریم ابو سالم اور رفح کراسنگ شامل ہیں۔
سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا کہ گوتریس غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل روکنے اور گزرگاہیں بند کرنے کے فیصلے پر "گہری تشویش” رکھتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ گوتریس نے غزہ کے اندر اور پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر انسانی امدادی سرگرمیوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون خصوصاً بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق امدادی سامان کی تیز، محفوظ اور بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنائیں۔
فرحان حق کے مطابق گوتریس نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی امداد غزہ کے شہریوں کی بقا اور فلاح و بہبود کے لئے ناگزیر ہے جبکہ انسانی ضروریات بدستور انتہائی وسیع ہیں اور امدادی رسائی کو قابل پیش گوئی، مسلسل اور بلا رکاوٹ برقرار رہنا چاہیے۔
ترجمان نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اسرائیل گزرگاہوں کو کب دوبارہ کھولے گا۔
اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران کرم شالوم واحد گزرگاہ تھی جو سامان کی ترسیل کے لئے فعال رہی تاہم اب غزہ میں کسی بھی قسم کی امداد داخل کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، اگرچہ انسانی امدادی تنظیموں کو سرحد کی فلسطینی جانب سامان وصول کرنے کی اجازت ہے۔
او سی ایچ اے نے خبردار کیا کہ ’’غزہ کے عوام بیرونی دنیا سے آنے والی انسانی اور تجارتی اشیاء کی مسلسل فراہمی پر انحصار کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار پابندیوں کے باوجود امدادی سامان کی مستقل فراہمی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اگر گزرگاہیں بند رہیں تو یہ کوششیں جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔‘‘


