ہومتازہ ترینقدیم دیہات سے جدید سیاحت تک، ہوانگ شان کی ترقی نے عالمی...

قدیم دیہات سے جدید سیاحت تک، ہوانگ شان کی ترقی نے عالمی وفود کو متاثر کیا

جب آپ چین کے مشرقی صوبہ انہوئی کے شہر ہوانگ شان کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے؟

یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل مقامات ہوانگ شان پہاڑ اور قدیم دیہات شی دی اور ہونگ سون؟

اچھا، ترقی اور بحالی کی یہ کہانی صرف انہی مشہور مقامات پر نہیں بلکہ تمام دیہی علاقوں میں بھی جاری ہے۔

یہی تبدیلی 2026 گلوبل میئرز ڈائیلاگ میں شریک شہری رہنماؤں کو لُوندُو گاؤں کی جانب لے آئی۔

لُوندُو گاؤں

یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ اس اتنے خوبصورت اور جدید مقام کا نام صوبائی سطح پر غربت کے شکار گاؤں کے طور پر کبھی درج کیا گیا تھا۔

گزشتہ دہائی کے دوران یہ گاؤں ایک ترقی یافتہ اور کامیاب دیہی سیاحتی مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): ہی یی، میئر ، ہوانگ شان شہر

’’لُوندُو گاؤں میں اس وقت 48 گیسٹ ہاؤسز موجود ہیں۔ جب کسی گھر کو گیسٹ ہاؤس میں تبدیل کیا جاتا ہے تو یہ مقامی رہائشیوں کے لئے آمدنی کے تین ذرائع پیدا کر سکتا ہے۔

پہلا ذریعہ کرائے کی آمدنی ہے کیونکہ دیہاتی اپنے گھر گیسٹ ہاؤس آپریٹرز کو لیز پر دے دیتے ہیں۔

دوسرا ذریعہ اجرت کی آمدنی ہے۔ رہائشی گیسٹ ہاؤسز میں کام کر سکتے ہیں جیسا کہ گھریلو کام کاج یا کھانے پینے کی خدمات۔

تیسرا ذریعہ کاروباری آمدنی ہے۔ دیہاتی بانس سے تیار کردہ دستکاری کی اشیا یا مقامی طور پر کاشت کی جانے والی چائے جیسی مصنوعات فروخت کر سکتے ہیں۔‘‘

سال 2025 میں لُوندُو گاؤں میں تقریباً 2 لاکھ سیاح آئے جبکہ سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی دو کروڑ یوآن (تقریباً 29 لاکھ 60 ہزار امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی۔ سال 2016 کے مقابلے میں سالانہ فی کس آمدنی میں 370 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

چھنکان گاؤں

اسٹینڈ اپ (انگریزی): ژو یانگ، نمائندہ شِنہوا

’’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی بڑے تہوار کی تقریبات میں شریک ہوں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔ چھنکان گاؤں میں تو یہ روزمرہ کا معمول ہے۔‘‘

ھچنکان گاؤں کی تاریخ 1800 سال سے زائد پر محیط ہے اور یہاں 150 سے زیادہ تاریخی عمارتیں موجود ہیں۔

تاہم آج کل سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے صرف قدیم طرزِ تعمیر ہی کافی نہیں۔ ماضی میں صرف تہواروں کے مواقع پر نکالی جانے والی مچھلی نما لالٹینوں کی پریڈ اب تقریباً ہر شام گاؤں کو روشن کر دیتی ہے۔

رات کے وقت منعقد ہونے والی ان سرگرمیوں نے سیاحت کو نئی رونق بخشی ہے۔ اس کے نتیجے میں سیاحتی علاقے میں گیسٹ ہاؤسز کی تعداد دوگنی ہو گئی جبکہ سال 2025 میں سیاحوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں 200 فیصد بڑھ گئی۔

شی شی نان گاؤں

شی شی نان گاؤں ایک ہزار سال سے بھی زائد پرانا ہے۔ یہاں ہُوئی طرزِ تعمیر کی تاریخی عمارتیں محفوظ حالت میں ہیں۔

گاؤں کے نزدیک واقع وِنگ نٹ کے نایاب درختوں پر مشتمل دلدلی جنگلاتی علاقہ بھی سیاحوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

گاؤں نے موقع کو غنیمت جانا اور اپنے روایتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے سیاحت سے متعلق متعدد کاروباری سرگرمیاں شروع کی ہیں۔

نئی قائم کی گئی بیکری کے ساتھ یہ تاریخی صحن اب ایک پُررونق ثقافتی مقام بن چکا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): شو روشیا، بیکری مالک، شی شی نان گاؤں

’’اصل بات یہ ہے کہ مقامی روایات کو بنیاد بنا کر نئی سوچ لائی جائے۔ دیہی بحالی کا بنیادی اصول بھی یہی ہونا چاہئے۔‘‘

مقامی حکام کے مطابق سال 2015 میں جہاں سیاحوں کی تعداد 10 ہزار سے بھی کم تھی۔ سال 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 24 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

یہ دیہات ہوانگ شان کی دیہی بحالی کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔

ان دیہات کی کہانیاں 2026 گلوبل میئرز ڈائیلاگ کے دوران دنیا بھر سے آئے ہوئے مہمانوں کے سامنے پیش کی گئیں۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): جی لینا میڈاکوِچ، سیکرٹری ثقافت، بلغراد، سربیا

’’میں یہ کہنا چاہوں گی کہ میں مختلف مناظر اور روایات کے اس قدر وسیع تنوع کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ ہر مقام اتنا منفرد اور دلکش تھا کہ میں سب سے خوبصورت کا انتخاب ہی نہیں کر سکتی۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): الیگزینڈر بیڈرو، میئر، ہانسیس ٹیڈٹ اسٹرالزُند، جرمنی

’’میرے خیال میں آپ نے ورثے کے ساتھ ساتھ ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں بھی ایک اچھا تصور پیش کیا ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): غفار اسماعیل، سربراہ سرمایہ کاری، یوگیاکارتا، انڈونیشیا

’’یہاں قدیم دیہات کا انتظام بہت متاثر کن تھا۔

چائے کے باغات کا حامل یہ خاص گاؤں لُوندُو میرے لئے بہت دلچسپ ہے کیونکہ اس میں مقامی لوگ اور حکومت مل کر اپنی مصنوعات کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہے ہیں۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 6 (انگریزی): فلیپو گاسپیری، میئر، گراڈارا، اٹلی

’’دیہی برادری کی یہ خواہش قابلِ تعریف ہے کہ وہ اپنی روایت اور ثقافت کو استعمال کرتے ہوئے نئے معاشی مواقع پیدا کرے، اپنی آمدنی میں اضافہ کرے اور اپنے اردگرد موجود خوبصورتی کو اپنے خاندانوں اور نوجوانوں کے لئے ایک موقع میں بدل دے۔ وہ زمین کی پیداوار کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔‘‘

ہوانگ شان، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں