ہومتازہ تریناطالوی شہر نیپلز آج بھی چین اور اٹلی کے صدیوں پرانے تعلقات...

اطالوی شہر نیپلز آج بھی چین اور اٹلی کے صدیوں پرانے تعلقات کا چشم دید گواہ ہے

اٹلی کے جنوبی تاریخی شہر نیپلز میں چین اور اٹلی کے درمیان اٹھارہویں صدی میں شروع ہونے والی تبادلوں کی ایک کہانی آج بھی جاری ہے۔

اطالوی مشنری میٹیو ریپا نے تقریباً 300 سال قبل بین الثقافتی صلاحیتوں کو پروان چڑھانےکے لئے کولیجیو دےئی چینی جسے چائنیز کالج بھی کہا جاتا ہےقائم کیا تھا۔

یہ کالج بعد میں یونیورسٹی آف نیپلز ایل اورینٹالے میں تبدیل ہو گیا جو اس وقت اٹلی میں چینی علوم کے مطالعے کا ایک اہم مرکز ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (اطالوی): انتونیلا وورکیو، لائبریرین، یونیورسٹی آف نیپلز ایل اورینٹالے

”لائبریری کا ابتدائی اور بنیادی ذخیرہ کولیجیو دےئی چینی سے حاصل ہوا تھا۔“

تاریخی ورثے کی بنیاد پر قائم اس یونیورسٹی کا چینی اداروں کے ساتھ تعاون زبان و ادب سے کہیں آگے تک پھیل چکا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): روبرٹو توتولی، ریکٹر، یونیورسٹی آف نیپلز ایل اورینٹالے

”تعلیمی تعلقات کے مطابق ہماری بنیادی توجہ زبان پر ہے۔ ہم بین الاقوامی تعلقات اور عصری امور کے مطالعے سے بھی مضبوط تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس کئی مفاہمتی یادداشتیں موجود ہیں جن میں آثارِ قدیمہ اور ماضی کی تاریخ جیسے شعبوں کا بھی احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔“

یونیورسٹی کا کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ نیپلز میں ثقافتی تبادلوں کے فروغ کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): وُو جون رُو، چینی ڈائریکٹر، کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی آف نیپلز ایل اورینٹالے

”جیسے جیسے ہم اپنی ثقافت کے فروغ کے لئے بڑھ چڑھ کر کوششیں کر رہے ہیں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ تعدادخود چین، ہمارے معاشرے اور ثقافت میں دلچسپی لے رہی ہے۔“

ساؤنڈ بائٹ 4 (اطالوی): تانیا وینڈیمیا، طالبہ، کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی آف نیپلز ایل اورینٹالے

”چینی ثقافت بلاشبہ دنیا کی قدیم ترین ثقافتوں میں سے ایک ہے اور اس کی تاریخ بھی نہایت دلچسپ ہے۔“

ساؤنڈ بائٹ 5 (اطالوی): ڈیوڈ ساراچینو، طالبعلم، کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی آف نیپلز ایل اورینٹالے

”آج نوجوانوں کو ان بین الثقافتی تبادلوں کو آگے بڑھانا چاہئے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان حقیقی روابط اور مضبوط تعلقات قائم کئے جا سکیں۔“

یہاں کے ماہرین کے لئے چین کو سمجھنا دنیا کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 6 (انگریزی): ماریزیو پاؤلیلو، پروفیسر برائے چینی فلسفہ، یونیورسٹی آف نیپلز ایل اورینٹالے

”آج مغربی دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ چینی ثقافت کو گہرائی سےسمجھنا ہو گا کیونکہ ہمیں تہذیب کی دیگر مثالوں کو بھی جاننے کی ضرورت ہے۔“

ساؤنڈ بائٹ 7 (اطالوی): ویلیریا واریانو، اطالوی ڈائریکٹر، کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی آف نیپلز ایل اورینٹالے

”کچھ لوگ جدید چین کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ حالیہ برسوں میں یوٹیوب ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جو اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی کے حامل چین کو نمایاں کرتی ہیں۔ جب لوگ جدید چین کو دیکھتے اور اس سے واقف ہوتے ہیں تو وہ اکثر ورطہ حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ چین کو مزید بہتر طور پر جاننے کے لیے بے حد دلچسپی لینے لگتے ہیں۔“

قدیم بندرگاہی شہر نیپلز میں چین کے ساتھ وسیع تر تبادلوں اور تعاون کی توقع کی جا رہی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 8 (اطالوی): لوئی جی کاربونے، نیپلز سٹی کونسلر، صدر سٹی کونسل، کمیشن برائے ثقافت، سیاحت و پیداواری سرگرمیاں

”یہ ایک ایسا تعلق ہے جس کی تاریخی جڑیں بہت گہری ہیں اور یہ ورثہ پہلے ہی ہماری شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔

ٹیکنالوجی، سائنس اور طب کے شعبوں میں ترقی کے ساتھ چین ایک اہم شراکت دار بن چکا ہے۔ اس لئے باہمی تبادلوں کو مزید ترقی مل سکتی ہے جس سے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ہم دونوں ایسی عظیم قومیں ہیں جن کی روایات طویل، ثقافتیں گہری اور سائنسی بنیادیں مضبوط ہیں۔“

نیپلز، اٹلی سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں