بیجنگ (شِنہوا) کمبوڈیا کے مصنف نے کہا ہے کہ چین کا عالمی سلامتی اقدام روایتی اتحادوں پر مبنی سلامتی کے طریقہ کار سے مختلف ہے کیونکہ یہ تزویراتی محاذ آرائی کو کم کرنے اور مکالمے پر مبنی سکیورٹی تعاون کے فروغ پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔
کمبوڈیا کے رائل اکیڈمی آف کمبوڈیا کے ماتحت کام کرنے والے تھنک ٹینک انٹرنیشنل ریلیشنز انسٹی ٹیوٹ آف کمبوڈیا کے ڈائریکٹر جنرل کن فیا نے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ فوجی اتحادوں یا ڈیٹرنس کی سیاست پر انحصار کرنے کے بجائے چین کا عالمی سلامتی اقدام سیاسی مشاورت، اقتصادی روابط اور مشترکہ ترقی کو طویل المدتی استحکام کی بنیاد قرار دینے پر زور دیتا ہے۔
اس اقدام کو 130 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ کمبوڈیا سمیت بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لئے یہ طریقہ کار اس وجہ سے پرکشش ہے کہ اس میں کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے دباؤ سے بچا جا سکتا ہے۔ عالمی سلامتی اقدام کی وسیع بین الاقوامی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بہت سے ممالک زیادہ جامع اور کم محاذ آرائی پر مبنی سلامتی فریم ورک کی تلاش میں ہیں۔
اس اقدام کا اثر خاص طور پر گلوبل ساؤتھ میں نمایاں ہے جہاں ممالک ترقی اور استحکام کو بیک وقت ترجیح دیتے ہیں۔
عملی طور پر عالمی سلامتی اقدام نظریاتی تصادم یا محاصرے کی حکمت عملیوں کے بجائے سفارت کاری، علاقائی تعاون اور قومی خودمختاری کے احترام کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش کرتا ہے۔ چین پہلے ہی اس اقدام کے بعض اصولوں کو ثالثی کی کوششوں، امن مذاکرات، انسداد دہشت گردی تعاون، انسانی ہمدردی کی امداد اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر مبنی کثیرالجہتی نظام کی حمایت کے ذریعے عملی سفارت کاری میں ڈھال چکا ہے۔
بعض ممالک کی فوجی مداخلتوں اور بیرونی کردار میں اضافے نے مختلف خطوں میں غیر یقینی صورتحال اور تزویراتی بداعتمادی کو بڑھایا ہے۔ متعدد مواقع پر ایسے اقدامات نے تنازعات کو طول دیا، جغرافیائی سیاسی رقابت کو گہرا کیا اور سفارتی حل کی راہ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک اکثر ایسے حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ عدم استحکام تجارت، سرمایہ کاری، غذائی تحفظ اور اقتصادی بحالی کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ وسیع تر تناظر میں فوجی دباؤ پر حد سے زیادہ انحصار کثیرالجہتی اداروں اور بین الاقوامی اصولوں کو کمزور کرنے کا خطرہ بھی پیدا کرتا ہے۔
پائیدار علاقائی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ مسابقتی طاقت کے اظہار اور بلاکوں پر مبنی جغرافیائی سیاسی محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری، متوازن روابط اور تعاون پر مبنی سلامتی کے نظام کو زیادہ اہمیت دی جائے۔
اب تک عالمی سلامتی اقدام مستقبل کی عالمی سلامتی نظم ونسق سے متعلق بین الاقوامی مباحثوں کا ایک اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔
آگے بڑھتے ہوئے توقع کی جاتی ہے کہ چین علاقائی مکالمے کے نظاموں کی حمایت، اعتماد سازی کے اقدامات کے فروغ اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رابطے کے ذریعے کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے اور اہم بحری و توانائی راہداریوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لئے مزید کردار ادا کرے گا۔


