ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکشی ڈپلومیسی: ایک غیر یقینی دنیا میں "آہنی دوستیوں" کی تشکیل

شی ڈپلومیسی: ایک غیر یقینی دنیا میں "آہنی دوستیوں” کی تشکیل

بیجنگ (شِنہوا) گزشتہ ہفتے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچچ کے تقریباً ایک ہی وقت میں چین کے دوروں نے ان دونوں ممالک کے بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو بیان کرنے والے ایک اہم جملے "آہنی دوستی” کو نمایاں کر دیا۔

ان دوروں میں یہ اصطلاح بار بار استعمال ہوئی اور میڈیا اور عوامی بحث میں غالب رہی جس نے چین کے پاکستان اور سربیا کے ساتھ تعلقات کی گہری اور مضبوط نوعیت کو اجاگر کیا۔

اپنے پہلے سرکاری دورہ چین کو اپنی سیاسی زندگی کا سب سے اہم دورہ قرار دینے والے صدر ووچچ چینی عوام کے لئے کوئی نیا چہرہ نہیں ہیں۔ گزشتہ برسوں میں بیجنگ میں بڑی تقریبات میں ان کی بار بار شرکت نے انہیں ایک مانوس شخصیت بنا دیا ہے، جبکہ "آہنی دوستی” کا جملہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی بات چیت کا مستقل حصہ بن چکا ہے، چاہے یہ ملاقاتیں ذاتی طور پر ہوں یا فون پر ہوں۔

چینی صدر شی جن پھنگ نے ووچچ سے ملاقات میں کہا کہ "چین-سربیا آہنی دوستی منفرد ہے اور اس کی بنیاد گہری تاریخی منطق اور مضبوط عملی بنیادوں پر ہے۔”

انہوں نے کہا کہ یہ تعلق 1970 کی دہائی میں سربیا کی اصلاحات اور چین کے ساتھ تجربات کے تبادلے سے مزید مضبوط ہوا۔

چین میں 2008 کے وین چھوان زلزلے سے لے کر 2014 میں سربیا کے تباہ کن سیلابوں تک دونوں ممالک نے مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔

صدر شی نے کہا کہ چینی اور سربیا دونوں قوموں نے مصائب اور عروج و زوال کا سامنا کیا ہے اور اسی وجہ سے ایک مستقل مزاج اور مضبوط کردار تشکیل دیا ہے۔

سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچچ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے میوزیم کا دورہ کر رہے ہیں۔ (شِنہوا)

چین کی پاکستان کے ساتھ "آہنی دوستی” بھی دہائیوں پر محیط باہمی اعتماد اور مسلسل تعاون اور مشترکہ ترقی پر مبنی ہے۔

صدر شی نے وزیراعظم شہباز شریف سے بات چیت کے دوران کہا کہ 75 سال قبل سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے چین اور پاکستان نے ایک اٹوٹ روایتی دوستی قائم کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان باہمی تزویراتی اعتماد اور عملی تعاون نے دونوں ممالک کی ترقی کو بھرپور فروغ دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم رشکئی خصوصی اقتصادی زون کا ایک منظر۔(شِنہوا)

پاکستان کا عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل ہونے اور چین کے امریکہ کے ساتھ تاریخی تعلقات کی بحالی میں سہولت کار بننے سے لے کر بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان شاہراہ قراقرم کی تعمیر کے انجینئرنگ شاہکار اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ایک فلیگ شپ منصوبے میں تبدیل ہونے تک دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات نسل در نسل مسلسل گہرے ہوئے ہیں۔

شہباز شریف نے بھی کہا کہ دونوں ممالک کی آہنی دوستی "دن بدن مزید مضبوط ہو رہی ہے اور اس کا کوئی ثانی نہیں۔”

چین، پاکستان اور سربیا نے کثیرالجہتی نظام، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی حمایت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان ہمیشہ چین کا اچھا دوست اور اچھا شراکت دار رہے گا۔”

چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ چین اور پاکستان کے رہنماؤں نے بہت پہلے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ باہمی احترام، برابر خودمختاری اور طویل المدتی اعتماد پر قائم تعلقات عموماً بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج چین اور پاکستان کا تعاون کئی شعبوں پر محیط ہے جن میں ایسے روابط شامل ہیں جو نئے مواقع پیدا کرتے ہیں، ایسی اختراع شامل ہے جو تبدیلی کا محرک بنتی ہے اور ایسے ادارے شامل ہیں جو طویل المدتی شراکت داری کو برقرار رکھتے ہیں۔

ہاشمی نے کہا کہ اس لئے سی پیک کو محض بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں یا توانائی میں سرمایہ کاری کے مجموعے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے دونوں ممالک کے درمیان جاری وسیع تر تزویراتی تعاون کے ایک اہم مرحلے کے طور پر سمجھنا چاہیے۔

ایسی آہنی دوستیوں کی اہمیت صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہےجیسا کہ بڑے بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر چین، پاکستان اور سربیا کے درمیان موجود وسیع اتفاق رائے سے ظاہر ہوتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پھنگ نے پاکستان کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے "فعال کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لئے ثالثی کی کوششیں کی ہیں۔” ان کا اشارہ ایران سے متعلق تنازع میں کشیدگی کم کرنے کے لئے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کی جانب تھا۔اس کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کی گئی 4 تجاویز خطے میں امن کے قیام کے لئے ایک رہنما فریم ورک فراہم کرتی ہیں اور پاکستان عالمی امن و استحکام کے فروغ کے لئے چین کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے لئے تیار ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں