تہران (شِنہوا) ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ابھی تک کسی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی اور دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان خیالات کا اظہار سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کو ٹیلی فون پر ایک انٹرویو میں کیا۔ اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے لئے اپنی شرائط بیان کیں اور کہا کہ وہ جلد اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔
اسماعیل بقائی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ مذاکرات میں ایران کی موجودہ توجہ "جنگ کے خاتمے” پر مرکوز ہے۔
بقائی نے کہا کہ اس مرحلے پر ایران کی یورینیم افزودگی یا افزودہ یورینیم سے متعلق معاملات کی تفصیلات پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے امکان کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کے مستقبل کے انتظام کا معاملہ صرف ’’ایران اور عمان سے متعلق ہے‘‘۔
اس سے قبل جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ میں اپنی شرائط بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایران کو اس بات پر رضامند ہونا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا جوہری بم حاصل نہیں کرے گا۔‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’’آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دونوں سمتوں میں آزاد اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کے لئے کھول دیا جانا چاہیے اور کسی قسم کا محصول عائد نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پانی میں کوئی بھی بارودی سرنگیں موجود ہیں تو انہیں ختم کر دیا جائے گا۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی ’’اب ختم کر دی جائے گی‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو امریکہ، ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے باہمی تعاون سے زمین سے نکال کر تلف کر دیا جائے گا۔


