بیجنگ (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے بدھ کے روز بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات اور مذاکرات کئے، جہاں دونوں ممالک نے چین-روس ہمسائیگی، دوستی اور تعاون کے معاہدے میں مزید توسیع پر اتفاق کیا۔
شی نے کہا کہ اس سال چین-روس جامع تزویراتی شراکت داری کے قیام کی 30ویں اور چین-روس ہمسائیگی و دوستانہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کی 25ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اور روس کے تعلقات قدم بہ قدم اس مقام تک پہنچے ہیں کیونکہ دونوں ممالک نے غیر متزلزل عزم کے ساتھ باہمی سیاسی اعتماد اور تزویراتی ہم آہنگی کو گہرا کیا، ہمیشہ نئی بلندیوں کو چھونے کے جذبے کے ساتھ تعاون کو وسعت دی اور بین الاقوامی انصاف و غیر جانبداری کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے لئے ایک کمیونٹی کی تعمیر کو مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھایا۔
شی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور دنیا کی اہم بڑی طاقتوں کے طور پر چین اور روس کو تزویراتی اور طویل مدتی نقطہ نظر اپنانا چاہیے، اعلیٰ معیار کی جامع تزویراتی ہم آہنگی کے ذریعے اپنے اپنے ممالک کی ترقی و بحالی کو آگے بڑھانا چاہیے اور عالمی نظم ونسق کے نظام کو مزید منصفانہ اور معقول بنانے کے لئے کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چین اور روس نے مساوات، باہمی احترام، دیانت داری اور باہمی فائدے پر مبنی تعاون کی بنیاد پر نئے دور کی جامع تزویراتی شراکت داری کو فروغ دیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں سے روس-چین تعلقات ایک بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں جن کی خصوصیات اعلیٰ سطح قریبی روابط اور مضبوط سیاسی اعتماد ہیں۔
پوتن نے کہا کہ دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، توانائی کی باہمی فراہمی اور طلب میں تعاون مستحکم ہوا ہے جبکہ نقل و حمل، لاجسٹکس، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون مزید گہرا ہوا ہے اور عوامی روابط بھی مثبت انداز میں فروغ پا رہے ہیں۔


