ہومتازہ ترینچینی طریقہ علاج ایکیوپنکچرسے تنزانیہ کی مقامی آبادی کی صحت میں نمایاں...

چینی طریقہ علاج ایکیوپنکچرسے تنزانیہ کی مقامی آبادی کی صحت میں نمایاں بہتری آ رہی ہے

یہ زنجبار کے منازی موجا ہسپتال میں قائم ایکیوپنکچر کلینک ہے جہاں چینی طبی ٹیم کے کچھ ارکان روایتی چینی طریقہ علاج کے ذریعے تنزانیہ کے شہریوں کو صحت کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

کلینک کے اندر تنزانیہ کی نرس مہیمنہ عبداللہ سلیم نے گزشتہ نو برس سے مختلف چینی طبی ٹیموں کے ساتھ کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تجربے نے ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور صحت کے شعبے کے بارے میں ان کے نقطۂ نظر دونوں کو بہتر بنایا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (سواحلی): مہیمنہ عبداللہ سلیم، تنزانیہ کی نرس

”مجھے ان چینی ڈاکٹروں کے ساتھ ہسپتال کے اندر اور باہر کام کرنا بہت پسند آیا ہے۔ میں ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتی ہوں۔ وہ ہمیں بہت کچھ سکھاتے ہیں۔ مریض بھی ان کی موجودگی کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اکثر اوقات جب میں علاج کرتی ہوں تو مریض چاہتے ہیں کہ چینی ڈاکٹر بھی وہاں موجود ہوں۔ مجھے فخر محسوس ہوتا ہے کہ میں نے بہت اچھی مہارت حاصل کی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی میری خواہش ہے کہ میں یہ کام جاری رکھوں کیونکہ یہ نہ صرف معاشرے بلکہ میری اپنی ذاتی زندگی کے لئے بھی زیادہ فائدہ مند ہے۔“

طبی ٹیم کے سربراہ باؤ زینگ تاؤ نے کہا کہ ایکیوپنکچر اور بحالی صحت کی خدمات کی بڑھتی ہوئی مقامی طلب کے باعث ٹیم نے رواں برس روایتی چینی طب کے دو ماہرین بھیجے ہیں تاکہ مقامی ضروریات کے مطابق خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): باؤ زینگ تاؤ، سربراہ، چینی طبی ٹیم

”مقامی طلب اور تنزانیہ کی وزارت صحت کے تقاضوں کے مطابق ہم نے خصوصی تربیتی کورسز تیار کئے ہیں۔ ان کورسز کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایکیوپنکچر طبی کارکنوں کو تربیت دی جا سکے تاکہ مقامی مریضوں کی بحالی صحت اور فزیوتھراپی کی ضروریات پوری ہوں۔

روایتی چینی طب( ٹی سی ایم) کم خرچ ہے اور اس کے مضر اثرات بھی نہایت کم ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ یہ مقامی لوگوں میں بہت زیادہ قابل قبول ہے۔“

زنجبار، تنزانیہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں