ہوماہم ترینچین کی تعمیر کردہ سی پیک ٹرانسمیشن لائن کا پاکستان کے...

چین کی تعمیر کردہ سی پیک ٹرانسمیشن لائن کا پاکستان کے شمال اور جنوب کو جوڑ کر ترقی میں اہم کردار

چھانگ چھون (شِنہوا) پاکستان کے شمال مشرقی گاؤں فیروز والہ میں دیہاتی علی احمد کے گھر کا آبپاشی پمپ اب 24 گھنٹے چلتا ہے۔

انہوں نے اطمینان اور امید بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ اب جب ہمارے پاس بجلی ہے تو ہماری اناج کی پیداوار یقینی ہو گئی ہے اور زندگی خوشحال محسوس ہوتی ہے۔ یہ تحفظ کا احساس مٹیاری-لاہور ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن منصوبے کی بدولت ہے جو پاکستان کے جنوب سے شمال تک پھیلی ہوئی توانائی کی ایک اہم شہ رگ ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے مٹیاری کنورٹر سٹیشن میں جی لین الیکٹرک پاور ٹرانسمیشن اینڈ ٹرانسفارمیشن انجینئرنگ کمپنی کے پاکستان کنورٹر سٹیشن مینٹیننس پراجیکٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے منعقدہ ایک تکنیکی تربیتی سیشن بھرپور انداز میں جاری تھا۔ چینی ماہرین پاکستانی ملازمین کو ٹرانسفارمر آئل کرومیٹو گرافک تجزیے کا طریقہ کار مرحلہ وار سکھا رہے تھے جبکہ ورکشاپ میں سوالات اور مباحثے جاری تھے۔

یہ چینی مرمتی ٹیم تکنیکی مہارت منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے شمال اور جنوب کو ملانے والی بجلی کی اس اہم لائن کی حفاظت
بھی کر رہی ہے۔

ژانگ شو پاکستانی انجینئر محمد انس کو آئل کرومیٹو گرافی ٹیسٹنگ کی عملی تربیت دے رہے ہیں۔(شِنہوا)

اس منصوبے کی کہانی 2015 میں شروع ہوئی۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک نمایاں منصوبہ ہے، کے تحت اسٹیٹ گرڈ کارپوریشن آف چائنہ نے پاکستان کے ساتھ تعاون کا معاہدہ کیا۔ اس منصوبے میں سرمایہ کاری، تعمیر اور آپریشن چائنہ الیکٹرک پاور ایکویپمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ نے ’بناؤ، چلاؤ، ملکیت رکھو اور منتقل کرو‘ ماڈل کے تحت کیا۔ یہ چین کا پہلا بیرون ملک 660 کے وی ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن منصوبہ تھا جو مکمل طور پر آزاد تخلیقی ملکیتی حقوق کے ساتھ تیار کیا گیا اور سی پیک کے تحت واحد پاور گرڈ منصوبہ بھی تھا۔

چینی اور پاکستانی عملے کے ارکان ایئر کنڈیشننگ سسٹم میں خرابی کا معائنہ کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

دسمبر 2018 میں اس کی تعمیر باضابطہ طور پر شروع ہوئی۔ پاکستان کے جنوبی مٹیاری سے شمال مشرقی شہر لاہور تک پھیلی 886 کلومیٹر طویل اس ٹرانسمیشن لائن کی گنجائش 4 ہزار میگاواٹ ہے جو پاکستان کی قومی سطح پر بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب کا تقریباً پانچواں حصہ پورا کر سکتی ہے۔ یہ منصوبہ توانائی کے جنوبی مراکز کو مرکزی استعمال کے مراکز سے موثر طریقے سے جوڑتا ہے اور لاہور سمیت بڑے شہروں کی اقتصادی ترقی میں مضبوط معاونت فراہم کرتا ہے۔

یہ ٹرانسمیشن لائن یکم ستمبر 2021 کو باضابطہ طور پر تجارتی آپریشن میں داخل ہوئی اور خاموشی سے مقامی آبادی کی زندگی بدلنے لگی۔

اس سے پہلے فیروز والہ کے دیہاتی آبپاشی کے لئے پانی نکالنے کی خاطر دستی محنت یا چھوٹے ایندھن سے چلنے والے انجن استعمال کرتے تھے جو مہنگا اور وقت طلب عمل تھا۔ آج بجلی کی مستحکم فراہمی کی وجہ سے آبپاشی پمپ آسانی سے دستیاب ہیں، زرعی حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اناج کی پیداوار مسلسل بڑھ رہی ہے۔

منصوبے کی طویل مدتی کامیابی پیشہ ورانہ مرمت پر منحصر ہے۔ اسٹیٹ گرڈ جی لین الیکٹرک پاور کمپنی نے پاکستان میں کنورٹر سٹیشن مینٹیننس کے لئے ایک خصوصی ٹیم قائم کی جبکہ جی لین الیکٹرک پاور ٹرانسمیشن اینڈ ٹرانسفارمیشن انجینئرنگ کمپنی نے روزمرہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی۔

منصوبے کو مسلسل فعال رکھنے کے لئے مستقل پیشہ ورانہ دیکھ بھال ضروری ہے۔ اس وقت 30 سے زائد چینی ماہرین 60 سے زیادہ پاکستانی ملازمین کے ساتھ مل کر دونوں کنورٹر سٹیشنز کے محفوظ اور مستحکم آپریشن کو یقینی بنا رہے ہیں۔

مرمتی ٹیم نے پاکستان میں تربیتی پروگرام اور عملی تکنیکی سیشن متعارف کروائے ہیں۔ محمد انس، جو کبھی چین میں زیر تعلیم رہے، چینی اساتذہ کی انفرادی رہنمائی سے اب ایک ماہر ٹیکنیشن بن چکے ہیں اور پیچیدہ مرمتی کام خود انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امائلہ، جو پہلے تعمیراتی شعبے سے وابستہ تھیں، اب ایک پیشہ ور مرمتی ٹیکنیشن بن چکی ہیں اور انہوں نے اپنی تکنیکی مہارت کے ساتھ ساتھ چینی زبان میں بھی نمایاں بہتری حاصل کی ہے۔

تعمیر سے لے کر طویل مدتی دیکھ بھال تک چینی انجینئروں نے کھلے دل سے اپنی ٹیکنالوجی اور تجربہ منتقل کیا جبکہ پاکستانی ملازمین نے محنت سے نئی مہارتیں سیکھیں۔ انہوں نے مل کر ایک مضبوط اور ہم آہنگ ٹیم تشکیل دی ہے جو پاکستان کے اہم توانائی راہداری کی حفاظت کر رہی ہے۔

پاکستان کی نیشنل گرڈ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر الطاف حسین ملک نے شِنہوا کو بتایا کہ سی پیک کے تحت تیار کیا گیا یہ منصوبہ پاکستان کے بجلی کے نظام کو نمایاں طور پر مضبوط بنا چکا ہے اور ملک بھر میں بجلی کی فراہمی بہتر ہوئی ہے۔

ملک کے مطابق یہ منصوبہ سندھ سے پنجاب تک 4 ہزار میگاواٹ بجلی منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے پاکستان کے شمال-جنوب ٹرانسمیشن کے دیرینہ مسئلے کے حل میں مدد ملی ہے۔

ایچ وی ڈی سی ٹیکنالوجی کے فوائد کو سراہتے ہوئے ملک نے کہا کہ اس منصوبے نے پاکستان کے پاور گرڈ کی جدیدیت میں اہم کردار ادا کیا ہے، صنعتوں اور کاروبار کو زیادہ قابل اعتماد بجلی فراہم کی ہے اور ماحولیاتی اثرات میں کمی لائی ہے جس سے یہ سی پیک کے تحت پائیدار ترقی کی ایک اہم مثال بن گیا ہے۔

سال 2026 چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے تعاون پر نظر ڈالیں تو توانائی ہمیشہ دونوں ممالک کے عملی تعاون کا ایک بنیادی ستون رہی ہے۔

پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ اور ساہیوال کول پاور پلانٹ جیسے بڑے توانائی منصوبوں سے لے کر آج کی جدید ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن” شہ رگ“ تک دوطرفہ تعاون نے پاکستان کو بجلی کی قلت کم کرنے اور گرڈ کے استحکام و رسائی کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔

ایک کے بعد ایک تعمیر ہونے والی یہ ٹرانسمیشن لائنیں چین اور پاکستان کے درمیان باہمی فائدے اور مشترکہ ترقی کے مضبوط رشتے کی علامت بن چکی ہیں۔ یہ نہ صرف بجلی اور اقتصادی ترقی پہنچا رہی ہیں بلکہ دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کو بھی مزید مضبوط بنا رہی ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں