ہانگ کانگ مصنوعی ذہانت اور صنعتی ترقی کی حکمتِ عملی سے متعلق ایک کمیٹی قائم کرے گا تاکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے صنعتی تبدیلی کی حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔ اس حکمت عملی میں ابتدائی توجہ صحت اور زندگی سے متعلق ٹیکنالوجی اور ذہین روبوٹس پر دی جائے گی۔ یہ بات ہانگ کانگ خصوصی انتظامی خطے کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے منگل کے روز بتائی۔
ہانگ کانگ میں ذہین روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کی صنعت کے رہنماؤں کے پہلے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لی نے صنعتی ترقی اور نئی معیاری پیداواری صلاحیتوں کے فروغ میں ذہین روبوٹس کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ کمپنیوں کا خیرمقدم کرتا ہے کہ وہ یہاں اپنی کاروباری سرگرمیاں شروع کریں تاکہ اس شہر کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور تکنیکی ترقی کا عمل تیز ہو۔
جان لی نے بتایا کہ ہانگ کانگ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ رواں برس کے دوسری ششماہی میں کام شروع کر دے گا۔ اس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق و ترقی کو فروغ دینا، تحقیقی نتائج کو تجارتی شکل دینا اور عملی استعمال کے مواقع بڑھانا ہے۔
لی نے مزید کہا کہ ادارہ ایک اے آئی ٹیکنالوجی میچنگ پلیٹ فارم بھی شروع کرے گا جو صنعتی ضروریات کے مطابق حل فراہم کرے گا تاکہ تجارتی عمل کو تیز کیا جا سکے اور صنعتی ترقی کو فروغ ملے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہانگ کانگ ٹریڈ ڈویلپمنٹ کونسل کے چیئرمین فریڈرک ما نے زور دے کر کہا کہ ہانگ کانگ اندرونی روابط، عالمی رابطہ کاری، کھلے پن اور شمولیت جیسی منفرد خصوصیات رکھتا ہے۔ ان خصوصیات نے اسے مین لینڈ چین کی جدت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کے لئے ایک بہترین پلیٹ فارم بنا دیا ہے۔
یہ اجلاس ہانگ کانگ چائنہ فرینڈشپ ایسوسی ایشن اور روبوٹکس کمپنی اے جی آئی بوٹ کے اشتراک سے منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد ہانگ کانگ کے ذہین روبوٹس کے شعبے میں تبادلہ خیال اور تعاون کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا اور شہر کو ذہین روبوٹس کے شعبے کا عالمی مرکز بنانا تھا۔
ہانگ کانگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


