چین کے صوبہ شانشی کی ژونگ یانگ کاؤنٹی کے پہاڑی علاقے میں رہنے والا گینگ پی پی 200 سے زائد مویشیوں کو پال رہا ہے۔
سال 2022 میں کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گینگ اپنے آبائی گاؤں واپس آیا تاکہ مویشی پالنے کا کاروبار شروع کر سکے۔
اس نے اب تک سوشل میڈیا پر اپنی 700 سے زائد مختصر ویڈیوز اپ لوڈ کی ہیں جن میں دلچسپ لمحات، زرعی مشورے اور منڈی کی تازہ معلومات شامل ہوتی ہیں۔
گینگ لائیو اسٹریمنگ بھی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد فالوورز کے ساتھ آن لائن گفتگو بھی کرتا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ (چینی): گینگ پی پی، مویشی پالنے والا کسان
”انٹرنیٹ کی بدولت صارفین گھر بیٹھے مویشی خرید سکتے ہیں۔ اس سے مویشیوں کی خرید و فروخت کا روایتی طریقہ بدل گیا ہے۔ میرے لئے اس کا مطلب گاہکوں کا زیادہ ہونا اور ان سےبہتر رابطہ ہے۔ جو سوالات وہ پوچھتے ہیں اُن سے مجھے بھی سیکھنے اور مسائل حل کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ انٹرنیٹ مجھے اپنے ہدف کے مطابق بہت سے خریدار اور فالوورز تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ میرے پاس مختلف عمر کے مویشی موجود ہیں۔ بچھڑے ان لوگوں کے لئے ہیں جو اِنہیں خریدنا چاہتے ہیں جبکہ اپنے مویشیوں کا ریوڑ تیزی سے بڑھانے کے خواہشمندوں کے لئے گابھن گائیں بھی موجود ہیں۔ یوں میں ہر مرحلے پر منافع کماتا ہوں۔میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے لئے کسی بھی قسم کے نقصان کا امکان کم سے کم ہو۔ بصوت دیگر کئی ماہ پالنے کے بعد اگر جانوروں کی قیمتیں گر جائیں تو ساری محنت ضائع ہو جاتی ہے۔“
اس نوجوان کاروباری شخص نے اب اپنا بیف برانڈ بھی شروع کر دیا ہے۔ اس کا خواب ہے کہ وہ قدرتی طریقوں سے چلنے والا ایک ایسا ماحول دوست فارم بنائے جس کے ذریعے مقامی نوجوان اور علاقے کے کسان ترقی کر سکیں۔
تائی یوآن، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


