تہران (شِنہوا) ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران اس وقت تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شامل نہیں ہوگا جب تک اعتماد سازی کے لئے مقرر کی گئی پانچ پیشگی شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔
ذرائع نے ان شرائط کو "کم از کم اعتماد سازی کی ضمانتیں” قرار دیا ہے جو امریکہ کے ساتھ کسی بھی نئے مذاکرات کے آغاز سے پہلے ضروری ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان شرائط میں تمام محاذوں خصوصاً لبنان میں مخاصمت کا خاتمہ، ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی، جنگ میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کے خودمختار حقوق کو تسلیم کرنا شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ مطالبات 14 نکاتی امریکی تجویز کے جواب میں امریکہ کو پہنچائے گئے ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ایران نے مذاکرات میں پاکستانی ثالث کو آگاہ کیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بحیرہ عرب اور خلیج عمان میں امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہنے سے تہران کا یہ موقف مزید مضبوط ہوا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات قابل اعتماد نہیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ شرائط صرف اس مقصد کے لئے ہیں کہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لئے کم از کم اعتماد کی سطح قائم ہو سکے۔
ایران نے اتوار کے روز تنازع کے خاتمے سے متعلق تازہ امریکی مسودہ تجویز کا جواب پاکستانی ثالث کے حوالے کیا تھا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا کہ تہران کی تجویز صرف ایرانی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لئے ہے۔


