چین کے شمالی شہر تیانجن میں چھاتی کے سرطان اور چھاتی کی صحت کی نگہداشت سے متعلق 23ویں عالمی کانگریس جمعہ کے روز سے اتوار تک منعقد ہوئی۔
تقریب کا اہتمام سینیولوجک انٹرنیشنل سوسائٹی اور چائنہ اینٹی کینسر ایسوسی ایشن کے اشتراک سے کیا گیا۔ اس موقع پر 21 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد ماہرین اور محققین اکٹھے ہوئے۔ کانفرنس کا مقصد چھاتی کے سرطان کی عالمی سطح پر روک تھام اور علاج کے حوالے سے نئی حکمت عملیوں پر غور کرنا تھا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): کیرول میتھلین، صدر، سینیولوجک انٹرنیشنل سوسائٹی
”چھاتی کے سرطان کے حوالے سے تعاون کرنا اور اس عمل میں شریک ہونا بے حد اہم ہے کیونکہ آپ کئی شعبوں میں بہت آگے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، الگورتھمز، چھاتی کے سرطان کی بیماری پھیلنے سے متعلق بنیادی تحقیق اور طبی نتائج کے شعبے اس کی مثال ہیں۔ آپ کے پاس چین میں ماہرین کی بڑی تعداد میں موجود ہے جبکہ یہاں ہونے والی تحقیقی اشاعتیں بھی نہایت زیادہ اور اعلیٰ معیار کی حامل ہیں۔“
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): ہاؤ شی شان، ڈائریکٹر، نیشنل کلینیکل ریسرچ سینٹر فار کینسر
’’اس کانفرنس نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے ماہرین کے درمیان تفصیلی مکالمے کو ممکن بنایا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کانفرنس عالمی سطح پر چھاتی کے سرطان کی روک تھام اور علاج کو ایک نئے مرحلے تک لے جانے میں مدد دے گی۔ اس طرح نہ صرف اس بیماری سے بچاؤ ہو جائے گا بلکہ اس کا علاج بھی ممکن ہو سکے گا۔‘‘
تیانجن، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


