ماسکو (شِنہوا) روس کی ایک سینئر میڈیا عہدیدار نے کہا ہے کہ روس اور چین کے مشترکہ فلمی منصوبے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنا رہے ہیں اور ثقافتی مکالمے کو فروغ دے رہے ہیں۔
نیشنل میڈیا گروپ کی سی ای او سویتلانا بالانوفا نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ مشترکہ فلمیں باہمی سمجھ بوجھ اور تعاون کو بڑھانے کا ایک موثر ذریعہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس اور چین کی مشترکہ فلمیں دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی مکالمے کو فروغ دینے اور تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک موثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مستقبل میں مزید متنوع مشترکہ منصوبے سامنے آئیں گے۔
بالانوفا نے 2025 کی فلم "ریڈسلک” کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے قومی سینما کو مشترکہ طور پر فروغ دینے اور مشترکہ اقدار کی عکاسی کرنے والی فلمیں تخلیق کرنے کے لئے ایک منظم اور مربوط طرز عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ فلم روس اور چین دونوں ملکوں میں ریلیز ہوئی اور 2025 میں بیرون ملک باکس آفس پر روس کی سب سے کامیاب فلم ثابت ہوئی۔
گزشتہ سال جاپانی جارحیت کے خلاف چین کی عوامی مزاحمتی جنگ اور سوویت یونین کی عظیم حب الوطنی کی جنگ میں فتح کی 80 ویں سالگرہ منائی گئی۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک وفد جاپانی جارحیت کے خلاف چین کی عوامی مزاحمتی جنگ کے عجائب گھر کا دورہ کر رہاہے-(شِنہوا)
بالانوفا کے مطابق روسی ناظرین فلم کی پرجوش کہانی اور اداکاری سے متاثر ہوئے جبکہ چینی ناظرین اس میں دکھائے گئے سخت سائبیرین حالات میں حوصلے اور ثابت قدمی کی عکاسی سے متاثر ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اس فلم کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں روس اور چین کے تعلقات کی تاریخ سے متعلق موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے اور اس میں دونوں ممالک میں فلمائے گئے دلکش مناظر شامل ہیں-
انہوں نے مزید بتایا کہ مستقبل میں اس کا حصہ دوم "بلیک سلک” کے نام سے زیر تکمیل ہے جو دونوں ممالک کے فلم سازوں کے درمیان ایک نئی بین الاقوامی مشترکہ کاوش ہوگی۔
اس منصوبے کو چین میں پہلے ہی مشترکہ پروڈکشن کا درجہ دے دیا گیا ہے اور یہ فلم ریڈسلک میں شروع ہونے والی کہانی کو آگے بڑھائے گی۔


