جنیوا (شِنہوا) اقوام متحدہ کے اداروں کی جانب سے جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں مواصلاتی نیٹ ورکس کی خرابی سے پیدا ہونے والی ’’ڈیجیٹل وبا‘‘ کے ممکنہ خطرے سے متعلق خبردار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل پائیداری کو بڑھانے کے لئے مربوط اقدامات کریں۔
’’جب ڈیجیٹل نظام ناکام ہو جائیں: ہماری ڈیجیٹل دنیا کے چھپے ہوئے خطرات‘‘ کے عنوان سے اس رپورٹ میں زمین، سمندر اور خلا سے متعلق مختلف خطرناک حالات کے منظرنامے بیان کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آپس میں جڑے ہوئے ڈیجیٹل نظام انتہائی حساس ہیں اور ان کی کمزوری عالمی سطح پر بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہے اس لئے پیشگی تیاری ضروری ہے۔
ان خطرناک صورت حال اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ڈیجیٹل وباؤں کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ شدید شمسی طوفان سیٹلائٹس کو غیر فعال کر سکتا ہے، سمت معلوم کرنے والے نظاموں میں خلل ڈال سکتا ہے اور توانائی کے نظام کو غیر مستحکم کر سکتا ہے جبکہ بحالی میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں، انتہائی زیادہ درجہ حرارت ڈیٹا مراکز پر دباؤ بڑھا سکتا ہے جس کے نتیجے میں موبائل سروس بند ہو سکتی ہے اور صحت کے نظام اور مالی لین دین میں خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں، زلزلے یا دیگر قدرتی آفات اہم انٹرنیٹ رابطے منقطع کر سکتی ہیں، کاروباری سرگرمیوں کو سست کر سکتی ہیں اور تمام ممالک ہفتوں تک انٹرنیٹ سے محروم رہ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں ایک اور کمزوری کو اجاگر کیا گیا ہے کہ معاشرے اب ڈیجیٹل نظاموں پر حد سے زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں جبکہ روایتی مہارتیں برقرار نہیں رکھی گئیں اور ہنگامی متبادل نظام بھی کافی نہیں ہیں۔ اس کے نتیجے میں جب بڑے نظام ناکام ہو جاتے ہیں تو اکثر آف لائن یا غیر ڈیجیٹل متبادل دستیاب نہیں رہتے۔


