ہومپاکستانبنیان المرصوص معرکہ حق کا اہم ستون، پاکستان کسی تنازعے کا خواہاں...

بنیان المرصوص معرکہ حق کا اہم ستون، پاکستان کسی تنازعے کا خواہاں نہیں، دھونس، دادا گیری کا رویہ قبول نہیں کرے گا، آصف زرداری

صدر مملکت آصف علی زرداری نے آپریشن بنیان مرصوص کو معرکہ حق کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی تنازعے کا خواہاں نہیں، دھونس اور دادا گیری کا رویہ قبول نہیں کرے گا، دنیا نے دیکھ لیا، قوم ساتھ کھڑی ہو تو مسلح افواج کیا کچھ کر سکتی ہیں، مشرق وسطی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ذمہ دارانہ، متوازن سفارتکاری کے ذریعے امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا، مسئلہ کشمیر خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے، پاکستان آبی حقوق کے دفاع کیلئے اسی عزم کا مظاہرہ کرے گا جو اپنی سرزمین کے دفاع میں دکھایا ہے، اپنی خودمختاری، عالمی قانون، ایسے پرامن خطے کیلئے پرعزم ہیں جہاں اختلافات طاقت کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔

معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر جاری بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان بڑے امتحان سے گزرا ،مئی2025ء کے واقعات صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں پاکستان پر بلا اشتعال حملے کیے جن میں کچھ فوجی تنصیبات کے ساتھ زیادہ تر شہری آبادی اور عبادتگاہوں کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان نے نظم و ضبط، درست حکمتِ عملی، بہادری اور قومی اتحاد کیساتھ جواب دیا، آپریشن بنیان مرصوص معرکہِ حق کا اہم ترین ستون تھا، دنیا کو دکھایا کہ جب پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو تو ہماری مسلح افواج کیا کچھ کر سکتی ہیں، ہمارا جواب سوچا سمجھا، متوازن، متناسب، درست اور صورتحال کے عین مطابق تھا اور ہمارا پیغام بالکل واضح تھا۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ پیشہ ورانہ مہارت، تینوں افواج کی مربوط حکمت عملی اور اس قوم کے اس عزم پر قائم ہے جو کبھی جارحیت کے سامنے سر نہیں جھکاتی، ہم اپنی بہادر افواج کے مرد و خواتین کو سلام پیش کرتے ہیں اور ہر اس شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جس نے اس وطن کی سربلندی کیلئے اپنی جان قربان کی۔

یہ ہماری قومی سوچ کا حصہ ہے کہ جب ہم پر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو ہر پاکستانی سپاہی بن جاتا ہے جن میں کچھ تو وردی میں ہوتے ہیں اور زیادہ تر بغیر وردی کے۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو نہ صرف اپنا دفاع کرنا جانتی ہے بلکہ امن اور استحکام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے ذمہ دارانہ اور متوازن سفارت کاری کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز تک لانے میں بھی مدد دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جہاں بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے، وہاں امن، مذاکرات اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں اس موقع پر ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر اس خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے، جنوبی ایشیا کی سکیورٹی کے مسائل کا کوئی بھی غیرجانبدار جائزہ پاکستان کے کردار کی اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتا، کشمیری عوام کی خواہشات، جنہیں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے دہائیوں کے قبضے کے باوجود ختم نہیں ہوئیں اور نہ ہی کبھی ہوں گی، پاکستان ایک منصفانہ اور قانونی حل کے اپنے موقف پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف ہے۔

عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ جو 1960ء میں ہوا، چار جنگوں اور 65برس کی تلخ کشیدگی کے باوجود قائم رہا، اس معاہدے کو سیاسی تنازعات سے بالاتر رکھا گیا تھا۔ بھارت کا بغیر کسی قانونی جواز کے اسے معطل کرنا لاکھوں لوگوں کے روزگار اور زندگیوں کیلئے خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کوئی ایسا معاملہ نہیں جسے سیاسی دبائو کیلئے استعمال کیا جائے،پاکستان اپنے آبی حقوق کے دفاع کیلئے اسی عزم کا مظاہرہ کرے گا جو اس نے اپنی سرزمین کے دفاع میں دکھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے بارے میں بھی اپنا موقف پوری وضاحت سے دہراتے ہیں، پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، ہم فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو ہر شکل میں ختم کرنے کیلئے پرعزم ہیں، ہم نے افغانستان کی موجودہ عبوری حکومت کے ساتھ سنجیدگی سے رابطے کیے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ دوحا فریم ورک کے تحت کیے گئے وعدوں پر مکمل عمل ہوگا تاکہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی تنازعے کا خواہاں نہیں لیکن پاکستان کبھی دھونس اور دادا گیری کے رویے کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی خودمختاری، بین الاقوامی قانون، اور ایک ایسے پرامن خطے کیلئے پرعزم ہیں جہاں اختلافات طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق اب ہماری قومی یادداشت کا حصہ بن چکا ہے، یہ کوئی ایسا لمحہ نہیں تھا جسے ہم نے خود چنا ہو، لیکن جب وقت آیا تو پوری قوم نے اپنی تمام تر صلاحیت اور عزم کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا، یہ دن ہر سال ہمیں یاد دلاتا رہے کہ جو قوم اپنی قدر پہچانتی ہے، وہ اپنے دفاع کی طاقت بھی ہمیشہ رکھتی ہے۔

Authors

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں