ہومتازہ ترینچین میں "دو سروں والے سانپ" کی نئی نسل دریافت

چین میں "دو سروں والے سانپ” کی نئی نسل دریافت

نان ننگ (شِنہوا) چینی محققین نے سانپ کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے جس کا نام "گوانگشی ریڈ سانپ”رکھا گیا ہے۔ یہ سانپ اپنی دم کو استعمال کرتے ہوئے 2 سر ظاہر کر کے شکاری جانوروں کو دھوکہ دیتا ہے اور انہیں دور رکھنے میں کامیاب رہتا ہے۔

یہ دریافت گزشتہ ماہ جریدے زوسسٹمیٹک اینڈ ایوولوشن میں تفصیل کے ساتھ شائع ہوئی تھی جو چین کے جنوبی گوانگشی ژوانگ خودمختار علاقے میں واقع ہواپھنگ قومی قدرتی تحفظ گاہ میں وسیع حیاتیاتی تنوع کے سروے کا حصہ تھی۔ اس تحقیق میں گوانگشی قدرتی تاریخی عجائب گھر کی ایک ٹیم سمیت کئی گروپس نے حصہ لیا۔

محققین کے مطابق یہ سانپ 20 سینٹی میٹر سے تھوڑا زیادہ لمبا ہے اور اس کا جسم باریک اور بھورا رنگ کا ہے۔ اس کی پیٹھ پر سات سیاہ اور وقفے وقفے سے موجود دھاریاں ہیں جبکہ اس کے جسم کے کناروں پر سیاہ رنگت اسے جال جیسا مخصوص نقش دیتی ہے۔

یہ سانپ زیادہ تر رات کے وقت سرگرم ہوتے ہیں اور جزوی طور پر زمین کے اندر رہتے ہیں۔ یہ اپنی زندگی کا بڑا حصہ پتوں کی تہہ، گلی سڑی مٹی کے ڈھیر اور چٹانوں کی دراڑوں میں چھپے ہوئے گزارتے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیموں نے اس نسل کو تقریباً 760 میٹر کی بلندی پر موجود چوڑے پتوں والے جنگل میں پایا جہاں یہ نسل زمین پر حرکت کرتے ہوئے کیچوے اور نرم جسم والے کیڑوں کے لاروے کھاتی ہے۔

اگرچہ اس کا دفاعی انداز کافی ڈرامائی ہے، لیکن محققین نے اسے نرم مزاج، غیر زہریلا اور غیر جارح قرار دیا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خاصیت یہ ہے کہ خطرہ محسوس ہونے پر یہ اپنے جسم کو آٹھ کی شکل میں لپیٹ لیتا ہے یا اپنی کند اور گول دم کو سر کی طرح اٹھا کر دکھاتا ہے، جس کی وجہ سے اسے "دو سروں والا سانپ” بھی کہا جاتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں