لاہور ہائیکورٹ نے سپیشل کورٹس کا اوورسیز کے مقدمات نہ سننے کا اعتراض کو کالعدم قرار دے دیا۔
ہفتے کو جاری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ اوورسیز کے پراپرٹی کیسز میں سپیشل کورٹ کا اختیار صرف قبضہ اور ملکیت کے تنازعات تک محدود نہیں، اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد سے متعلق تمام مقدمات سپیشل کورٹ میں سنے جائیں گے، وراثت، انتقال، پاور آف اٹارنی، منقولہ غیر منقولہ پراپرٹی کے مقدمات بھی اسپیشل کورٹ سنے گی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اوورسیز پراپرٹی ایکٹ کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کا تحفظ ہے، ایکٹ کے تحت اوورسیز کے مقدمات سپیشل کورٹس میں سنے جانے ہیں، سپیشل کورٹ اور سول کورٹ نے قانون کی غلط تشریح کرتے ہوئے اوورسیز کی صرف منقولہ جائیداد کے کیسز ہی منتقل کیے، سول کورٹس اور سپیشل کورٹس کی غلط تشریح کے درمیان مقدمات کو پنگ پونگ نہیں بنایا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فریقین میں سے ایک بھی پارٹی اوورسیز ہو تو کیس سپیشل کورٹ سنے گی، سول کورٹس سے ٹرانسفر ہو کر آنیوالے کیسز سپیشل کورٹس میں اسی سٹیج سے چلیں گے، اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات دوبارہ نئے سرے سے دائر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، سپیشل کورٹ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد کے مقدمات کیلئے خصوصی اور خود مختار فورم ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو فوری اور موثر انصاف فراہم کرنا ہے، قانون کے نفاذ کے بعد زیر التوا تمام متعلقہ مقدمات خودکار طور پر سپیشل کورٹ منتقل ہوں گے، کسی فریق کو عدالتی غلطی یا دائرہ اختیار کی غلط تشریح سے نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا، اوورسیز کے صرف وہ مقدمات اسپیشل کورٹ میں نہیں جائیں گے جن کا تعلق غیر منقولہ جائیداد سے نہ ہو۔
لاہور ہائیکورٹ نے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے رجسٹرار کو فیصلے کی کاپی تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو بھیجنے کا حکم دے دیا۔


