معاشی درجہ بندی کرنے والی عالمی ایجنسی موڈیز نے حال ہی میں چین کی اے ون خودمختار کریڈٹ ریٹنگ برقرار رکھتے ہوئے اس کے معاشی منظرنامے کو "مستحکم” قرار دیا ہے۔
کینیا کے ماہر معاشیات جیمز شیکواٹی کا کہنا ہے کہ چین کی مستحکم درجہ بندی عالمی معیشت کو ایک امید افزا اور قابلِ اعتماد متبادل فراہم کرتی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): جیمز شیکواٹی، ماہر معاشیات، کینیا
"میں یہ کہوں گا کہ موڈیز کی جانب سے چین کو اے ون درجہ دینا اس امر کا اظہار ہے کہ یہ ایک مستحکم معاشی طاقت کے طور پر عالمی معیشت کے لئے بھی امید کی کرن ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور خلیجی خطے کے تنازعات کے باعث اس وقت عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال اور مایوسی کا شکار ہے۔ ایسے میں چین جیسی بڑی معیشت کا مستحکم قرار پانا یہ امید پیدا کرتا ہے کہ چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات رکھنے والے تمام ممالک کے پاس ایک قابلِ اعتماد اور مستحکم متبادل موجود ہے۔”
جیمز شیکواٹی نے مزید کہا کہ چین کی جانب سے 53 افریقی ممالک کے لئے زیرو ٹیرف سہولت سے ان ممالک کو اپنی معیشت نئی ضروریات کے مطابق ڈھالنے اور بڑی منڈیوں کی طلب پوری کرنے کے مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): جیمز شیکواٹی، ماہر معاشیات، کینیا
"یکم مئی 2026 سے 53 افریقی ممالک کے لئے چین کی زیرو ٹیرف سہولت نافذ ہو چکی ہے۔ اس سے افریقی ممالک کو اپنی معاشی سرگرمیوں کو اس انداز سے منظم کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ وہ عالمی منڈی کی ضروریات پوری کر سکیں۔”
نیروبی سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


