تہران (شِنہوا) ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے ایک نقشہ جاری کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کے اندر ایک نئے "کنٹرول ایریا” کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کی مجموعی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
پیر کے روز جاری کردہ یہ نقشہ پاسداران انقلاب کے خبر رساں ادارے سپاہ نیوز کی جانب سے شائع کیا گیا جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ جو بھی بحری جہاز پاسداران انقلاب کی بحری ہدایات پر عمل کرنے میں ناکام رہے گا اسے "سنگین خطرات” کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ زون ایرانی جنوبی ساحل کے قریب کوہ مبارک سے مشرق میں متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ تک اور مغرب میں ایران کے جزیرہ قشم سے متحدہ عرب امارات کی ریاست ام القوین کے درمیان ایک لکیر تک پھیلا ہوا ہے۔
سپاہ نیوز نے بتایا کہ آئی آر جی سی کے ترجمان حسین محبی نے کہا کہ اس اعلان کا مطلب آبنائے کے مجموعی انتظام میں تبدیلی نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ تجارتی جہاز جو پاسداران انقلاب کی نیوی کے طے کردہ پروٹوکولز پر عمل کریں گے اور مقررہ راستوں پر ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ رکھیں گے انہیں محفوظ راستہ دیا جائے گاتاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو طاقت کے زور پر روکا جا سکتا ہے۔
یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ پیر کے روز آبنائے میں پھنسے ہوئے جہازوں کو ممنوعہ پانیوں سے نکالنے میں مدد کرے گا۔


