وزیراعظم شہباز شریف نے قومی فکری ارتقا میں اساتذہ و ادباء کے تعمیری کردار اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ کتب صدیوں سے علم و دانائی و رہنمائی کا لازوال ذریعہ رہی ہیں، مطالعہ کی عادت شہریوں کی فکری نشوونما، تخلیقی صلاحیت اور باخبر بننے کیلئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے، روشن و باشعور پاکستان کیلئے کتاب کلچر کا فروغ ناگزیر ہے۔
عالمی یوم کتب پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان و دنیا بھر کے قارئین، مصنفین، ادباء، ناشرین، اساتذہ اور طالب علموں کو کتابوں سے لگائو، مطالعہ سے رغبت پر دلی مبارکباد بالخصوص پاکستان کے ادباء اور اساتذہ کو قومی فکری ارتقا میں تعمیری کردار اور خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ کتابیں صدیوں سے علم و دانائی اور رہنمائی کا لازوال ذریعہ رہی ہیں، کتابوں کی دائمی اہمیت اور مطالعہ کی انقلابی قوت کا ادراک یقینا باشعور ذہن کا عکاس ہے، کتابیں نئی سوچ، مختلف نقطہ نظر اور ثقافتوں سے متعارف کرواتی ہیں اور ذہنی افق اور فہم کو وسعت دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کتابیں باشعور ذہن کی تشکیل، تنقیدی سوچ کے فروغ کے ساتھ ساتھ ہمدردی، امن و برداشت جیسے اوصاف کی ترویج کا بھی ذریعہ ہیں، یہی مثبت اوصاف ایک پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بیناد کو مضبوط کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ترقی کے دور میں ڈیجیٹل ذرائع سے معلومات تک رسائی میں آسانی سے کتب اور مطالعہ کی اہمیت اور بھی اجاگر ہو گئی ہے، مطالعہ کی عادت فکری نشوونما، تخلیقی صلاحیت اور باخبر شہری بننے کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شاندار ادبی روایات، علمی ورثہ اور علم و دانش، قومی ترقی کے بنیادی ستون ہیں، کلاسیکی علوم سے لے کر جدید ادب تک، ہمارے ادیب اور دانشوروں نے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں جو آج بھی نئی نسل کیلئے مشعل راہ ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان نسل میں مطالعہ کے رحجان کو فروغ دینا اور معیاری کتب تک رسائی کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے تاکہ ان کی بطور باشعور اور ذمہ دار شہری کے تربیت کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت تعلیم اور نیشنل بک فائونڈیشن مطالعہ کے فروغ، مصنفین و ناشرین کی معاونت اور معیاری و سستی کتب کی فراہمی کیلئے سرگرم عمل ہے۔
انہوں نے نوجوانوں، اساتذہ، والدین و تعلیمی اداروں سے خصوصی اپیل کی کہ وہ اجتماعی سطح پر معاشرے میں مطالعہ کی عادت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ آئیے تجدید عزم کریں کہ ہم خواندگی کے فروغ، علم تک رسائی میں آسانی اور تحریر و کتب کی قدر کو اجاگر کرنے کیلئے مل کر کام کریں گے تاکہ علم پر مبنی، باشعور اور روشن خیال پاکستان کی تعمیر میں اپنا فرض ادا کر سکیں۔


