ہومتازہ ترینچینی اور جرمنی کے تعلیمی اداروں نے مصنوعی حیاتیات کا مشترکہ تحقیقی...

چینی اور جرمنی کے تعلیمی اداروں نے مصنوعی حیاتیات کا مشترکہ تحقیقی مرکز قائم کر دیا

شین زین (شِنہوا) چین کے جنوبی شہر شین زین میں میکس پلانک-چینی اکیڈمی آف سائنسز سنٹر فار سنتھیٹک بائیو کیمسٹری کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا، جو جرمنی کی میکس پلانک سوسائٹی (ایم پی جی) اور چینی اکیڈمی آف سائنسز (سی اے ایس) کے درمیان مصنوعی حیاتیات کے شعبے کے لئے مخصوص پہلا مشترکہ تحقیقی اقدام ہے۔

یہ مرکز، جو سی اے ایس کے شین زین انسٹی ٹیوٹس آف ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی (ایس آئی اے ٹی) اور میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار ٹیریسٹریل مائیکرو بائیولوجی کے اشتراک سے قائم کیا گیا ہے، جدید حیاتیاتی علوم میں بین الاقوامی تعاون کو بتدریج وسعت دینے کا ایک اہم اقدام ہے اور یہ مصنوعی بائیوٹیکنالوجی میں جدید تحقیق اور ہنر مند افراد کی تربیت کو مزید فروغ دے گا۔

ایس آئی اے ٹی کے ڈائریکٹر اور نئے مرکز کے شریک ڈائریکٹر لیو چھن لی نے کہا کہ اس مرکز کا قیام بین الاقوامی تعاون میں ایک نئی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جو منصوبہ جاتی دوطرفہ تعاون سے بڑھ کر ادارہ جاتی کثیرالجہتی تعاون کی طرف ایک پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا تصور ایک عالمی معیار کے مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر کیا گیا ہے جہاں سائنسدان مصنوعی حیاتیات اور بائیو مینوفیکچرنگ کے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے جدید تحقیق پر مل کر کام کر سکیں گے۔

میکس پلانک سوسائٹی کے صدر پیٹرک کریمر نے کہا کہ شین زین عالمی سطح پر کھلے پن، جدت اور تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ نیا مرکز چین اور جرمنی کے سائنسی تعاون کی بہترین مثال بنے گا اور ایک ایسی جگہ ہوگی جہاں اعلیٰ معیار کی سائنس فروغ پائے اور نوجوان محققین ترقی کریں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں