ہومتازہ ترینچھٹے چین بین الاقوامی صارف مصنوعات ایکسپو 2026 میں ریکارڈ بین الاقوامی...

چھٹے چین بین الاقوامی صارف مصنوعات ایکسپو 2026 میں ریکارڈ بین الاقوامی شرکت

ہائیکو (شِنہوا) چھٹے چین بین الاقوامی صارف مصنوعات ایکسپو (سی آئی سی پی ای)، جو ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ (ایف ٹی پی) میں پورے جزیرے پر خصوصی کسٹمز آپریشنز کے آغاز کے بعد پہلا بڑا بین الاقوامی ایونٹ ہے، اس ہفتے ریکارڈ بین الاقوامی شرکت کا باعث بنی۔

اس سال کی ایکسپو میں بین الاقوامی مصنوعات مجموعی حصے کا 65 فیصد تھیں جبکہ 60 سے زائد ممالک اور خطوں کے 3400 سے زیادہ برانڈز نے شرکت کی۔ یہ اعداد و شمار چائنہ اکنامک راؤنڈ ٹیبل کے تازہ ترین پروگرام میں جاری کئے گئے، جو شِنہوا نیوز ایجنسی کا ایک آل میڈیا ٹاک شو ہے۔

ہائی نان میں بین الاقوامی اقتصادی ترقی کے صوبائی ادارے کے چیف اکانومسٹ زینگ رونگ کے مطابق ہائی نان کے شہر سانیا میں ایکسپو کے ذیلی مقام پر پیش کی جانے والی کشتیوں میں تقریباً 70 فیصد بین الاقوامی برانڈز کی تھیں۔

سی آئی سی پی ای 2026 میں متعدد معروف ملٹی چینل نیٹ ورک ایجنسیوں اور بڑے ای کامرس پلیٹ فارمز نے موقع پر ہی مصنوعات کی خریداری اور لائیو سٹریمنگ کے ذریعے فروخت کی۔ نمائش میں رکھی گئی اشیاء کی فروخت کو آسان بنانے کے لئے پہلی بار ایک بائر سروس سنٹر قائم کیا گیا، جس نے فری ٹریڈ پورٹ کی ترجیحی پالیسیوں سے فائدہ اٹھایا۔

زینگ نے کہا کہ اس ایکسپو کے ذریعے ہمارا مقصد دنیا بھر سے معیاری مصنوعات کو چین لانا اور مزید بین الاقوامی برانڈز کو یہاں اپنی عالمی لانچنگ کے لئے راغب کرنا ہے۔

بائر سروس سنٹر کے علاوہ مقامی کسٹمز حکام نے اس ایکسپو کے لئے 16 معاون اقدامات متعارف کرائے، جن میں نمائش کی اشیاء کی کلیئرنس، ریگولیٹری خدمات اور طریقہ کار کو آسان بنانا شامل ہے۔ بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کے لئے روانگی کے وقت ٹیکس ریفنڈ کی اپ گریڈ پالیسی بھی متعارف کرائی گئی۔

چائنہ انسٹی ٹیوٹ فار ریفارم اینڈ ڈیویلپمنٹ کے نائب صدر کوانگ شیان منگ نے کہا کہ سی آئی سی پی ای کی حمایت کے لئے ادارہ جاتی نظام مسلسل بہتر ہو رہے ہیں، جنہیں ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ کی گہری اصلاحات نے مزید تقویت دی ہے۔

کوانگ نے مزید کہا کہ جیسے جیسے ہائی نان اپنے کھلے پن کی پالیسی کو وسعت دے رہا ہے، اس ایکسپو کی افادیت مزید بڑھے گی اور ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ "وسیع ترقیاتی امکانات اور روشن مستقبل” کا حامل ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں