بیجنگ(شِنہوا)چین میں 14 ویں 5 سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران بچوں اور بزرگوں کی فلاح و بہبود میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
چین کے وزیر شہری امور لو ژی یوآن نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس عرصے کے دوران ضرورت مند بچوں کے لئے تحفظ اور دیکھ بھال کا ایک جامع نظام قائم کیا گیا ہے۔ جس میں لاوارث بچے، "پیچھے رہ جانے والے” وہ بچے جن کے والدین گھر سے دور کام کرتے ہیں اور مہاجر بچے شامل ہیں، یہ تمام اب ملک کی تحفظ اور نگہداشت کی خدمات کے دائرے میں شامل ہیں۔
بنیادی طور پر لاوارث بچے ان بچوں کو کہتے ہیں جن کے دونوں والدین غائب ہیں، شدید معذور ہیں، شدید بیمار ہیں، قید میں ہیں، ملک بدر کئے گئے ہیں یا منشیات سے بحالی کے لازمی عمل سے گزر رہے ہیں۔
لو نے کہا کہ 2020 کے مقابلے میں فلاحی اداروں میں یتیم بچوں، خاندان کے ساتھ رہنے والے یتیم بچوں اور حقیقت میں لاوارث بچوں کے لئے بنیادی رہائشی الاؤنس بالترتیب 26 فیصد، 32 فیصد اور 31 فیصد بڑھ گئے ہیں۔
لو نے کہا کہ اس دوران چین نے مخصوص مشکلات کا سامنا کرنے والے بزرگ افراد والے 22 لاکھ 40 ہزار گھروں کی مرمت، بزرگ دوست مراکز کی تزئین و آرائش اور نئی ڈیزائننگ مکمل کی ہے۔
لو نے مزید کہا کہ چین نے 500 ماڈل کمیونٹی پر مبنی بزرگوں کی نگہداشت کے نیٹ ورکس، 2 ہزار 990 ماڈل بزرگ دوست کمیونٹیز اور 86 ہزار بزرگوں کے لئے کمیونٹی کینٹینز قائم کی ہیں۔


