ہومتازہ ترینواشنگٹن کا قومی سلامتی سے متعلق خبط تمام حدیں پار کر چکا

واشنگٹن کا قومی سلامتی سے متعلق خبط تمام حدیں پار کر چکا

بیجنگ (شِنہوا) امریکی یونیورسٹیوں میں قائم ’’کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس‘‘ کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دینے کا پینٹاگون کا تازہ ترین اقدام مضحکہ خیز اور حد سے تجاوز پر مبنی رویہ ہے۔ یہ بعض امریکی سیاست دانوں کی خطرات سے متعلق بگڑی ہوئی سوچ اور وسط مدتی انتخابات سے قبل چین مخالف جذبات بھڑکانے کی خطرناک سیاسی حکمت عملی بے نقاب کرتی ہے۔

پینٹاگون ثقافتی اور تعلیمی اداروں کو سکیورٹی کے لئے خطرہ سمجھ کر قومی سلامتی کا مفہوم اس حد تک کھینچ رہا ہے کہ وہ مضحکہ خیز بن کر رہ گیا ہے۔ واشنگٹن کی مسلسل مسخ ہوتی سکیورٹی سوچ میں اب زبان پڑھانا، کسی تہذیب سے روشناس کرانا اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینا بھی خطرہ بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ اقدام شواہد پر مبنی جائزے کے بجائے سیاسی شک و شبہات پر مبنی نظر آتا ہے۔ واشنگٹن نے ان اداروں سے درپیش کوئی مخصوص سکیورٹی خطرہ ثابت کرنے کے بجائے ایک بار پھر محض اشاروں کنایوں اور تعلق کی بنیاد پر الزام تراشی کا سہارا لیا ہے۔

یہ منطق انتہائی وسیع اور خطرناک ہے، چین سے جڑی ہر چیز کو مشکوک سمجھا جاتا اور زبان و ثقافت کا پرامن تبادلہ بھی جغرافیائی و سیاسی تصادم کی عینک سے دیکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہ قومی سلامتی سے متعلق کوئی سنجیدہ رویہ نہیں بلکہ فرضی خطرات تراشنے کی ایک مشق ہے۔

یہ طنز اور تضاد نظر انداز کرنا مشکل ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال مئی میں چین کے دورے میں امریکی سپریم کورٹ کی پیشانی پر نصب کنفیوشس کے مجسمے کی تعریف کی تھی جبکہ دوسری جانب امریکی طلبہ کو چینی زبان و ثقافت سے روشناس کرانے والے اداروں کو اب سکیورٹی کے لئے خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

کنفیوشس کا کسی امریکی یادگار پر مجسمے کی صورت میں موجود ہونا تو قابل قبول ہو سکتا ہے لیکن ان کی تہذیب سے جڑے نظریات کا عملی تبادلہ تشویش کا باعث بنا دیا جاتا ہے۔ یہ تضاد وہ دوہرے معیار بے نقاب کرتا ہے جو بعض امریکی سیاست دانوں کے چین سے متعلق رویے کی بنیاد ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ خود امریکہ بھی بیرون ملک امریکی ثقافت کو فروغ دینے کے لئے ’’امریکن سپیسز پروگرام‘‘ جیسے اقدامات چلاتا ہے۔ ہالی ووڈ کی سپر ہٹ فلموں کے علاوہ کوکا کولا جیسے برانڈز بھی دہائیوں سے امریکی ثقافت کو دنیا بھر میں پھیلا رہے ہیں۔ پینٹاگون کی منطق کے مطابق کیا یہ تمام چیزیں بھی سکیورٹی کے لئے خطرہ ہیں جن پر پابندی عائد کر دینی چاہیے؟

واشنگٹن کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ اپنے ماضی کے ریکارڈ پر بھی نظر ڈالے۔ دہائیوں سے امریکہ بیرون ملک جنگیں لڑتا، خفیہ کارروائیاں کرتا اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا رہا ہے جس کے اکثر عالمی امن و استحکام پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود کچھ امریکی سیاست دان اپنے ملک کی بیرون ملک کارروائیوں کے نتائج سے زیادہ تعلیمی و ثقافتی اداروں سے خوفزدہ نظر آتے ہیں۔

قومی سلامتی کی بنیاد سیاسی تعصب کے بجائے قابل اعتماد شواہد پر ہونی چاہیے۔ اپنے اداروں اور اقدار پر اعتماد رکھنے والے ملک کو دوسرے لوگوں کی تہذیب کے بارے میں جاننے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ ثقافتی تبادلہ سکیورٹی کا ہوا بنانا امریکہ کو زیادہ محفوظ نہیں بنائے گا، بلکہ اس سے صرف بے اعتمادی گہری ہوگی، باہمی سمجھ بوجھ کو نقصان پہنچے گا اور وہ تقسیم مزید بڑھے گی جو بین الاقوامی امن کے لئے خطرہ ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں