دارالسلام (شِنہوا) تنزانیہ میں تعینات 28 ویں چینی طبی ٹیم نے تنزانیہ کے موہمبیلی نیشنل ہسپتال کے طبی عملے کو سانس کی نالی کی جدید نگہداشت کی تکنیکوں کی تربیت دی تاکہ جراحی کے پیچیدہ عمل سے گزرنے والے مریضوں کے لئے بے ہوشی کے عمل کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔
چینی طبی ٹیم میں شامل انیستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر لیو جیا نے ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے خصوصی تربیت دی جن کی سانس کی نالی میں ٹیوب ڈالنا مشکل ہوتا ہے۔ اس میں مریض کو بیدار رکھتے ہوئے ایک خاص کیمرے کی مدد سے ٹیوب ڈالنے کا طریقہ سکھایا گیا۔
تربیت میں اس طریقہ کار کے طبی استعمال، آلات کی صفائی اور جراثیم سے پاک کرنے، آپریشن کے دوران حفاظتی اقدامات اور عملی طور پر یہ طریقہ انجام دینے کی تکنیکوں کا احاطہ کیا گیا۔
لیو نے اس تکنیک کو اپنانے میں معاونت کے لئے ہسپتال کے شعبہ انیستھیزیا کو دو ویڈیو فائبر آپٹک برونکوسکوپ عطیہ کرنے کا انتظام بھی کیا۔
اس طریقہ کار کے ذریعے ڈاکٹر مریض کو عمومی بے ہوشی کی دوا دینے سے پہلے اس کی سانس کی نالی میں ٹیوب ڈال کر اسے محفوظ بنا سکتے ہیں۔ اس سے سانس کی نالی کی پیچیدہ صورتحال والے مریضوں میں جان لیوا پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ ان مریضوں میں جلنے کے زخموں اور چہرے کی ساخت میں خرابی کا شکار افراد بھی شامل ہیں۔
شعبہ انیستھیزیا کے سربراہ لوکانسولا مابوسی نے تربیت اور آلات کے عطیہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہسپتال میں سانس کی نالی کے پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت میں موجود اہم کمی کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مقامی طبی عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے عملی مہارت اور آلات فراہم کرنے پر چینی طبی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔
لیو جیا نے کہا کہ یہ اقدام صحت کے شعبے میں چین اور تنزانیہ کے بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی طبی ٹیم تنزانیہ میں طبی خدمات کو بہتر بنانے کے لئے تکنیکی تربیت اور آلات کی فراہمی جاری رکھے گی۔


