شین یانگ (شِنہوا) چین اور عوامی جمہوریہ کوریا (ڈی پی آر کے) کے درمیان دریائے یالو پر تعمیر کئے گئے نئے پل کو جمعرات کے روز باضابطہ طور پر ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا، اس موقع پر دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر افتتاحی تقریب منعقد کی۔
دریائے یالو پر تعمیر کیا گیا یہ پل چین کے شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ کے شہر ڈان ڈونگ اور عوامی جمہوریہ کوریا (ڈی پی آر کے) کے صوبے شمالی پیانگ آن کے شہر سین یوئیجو کے درمیان سرحد پار آمدورفت کا ذریعہ ہے۔
2 ستونوں اور کیبلوں کے 2 نظاموں پر مشتمل اس پل کا راستہ 28.5 میٹر چوڑا ہے جس پر 2 طرفہ ٹریفک کے لئے 4 لینیں بنائی گئی ہیں۔ پل کے نیچے آبی گزرگاہ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہاں سے 3 ٹن تک وزن رکھنے والے بحری جہاز گزر سکتے ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ نئے پل سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور عوامی سطح پر تبادلوں کو مزید فروغ ملے گا۔
ماؤ ننگ نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین اور ڈی پی آر کے دوستانہ ہمسایہ ممالک ہیں جو پہاڑوں اور دریاؤں سے ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور یہ نیا پل دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے کے لئے ایک اہم سہولت ہے۔
ڈان ڈونگ ڈی پی آر کے کے ساتھ چین کی سب سے بڑی سرحدی تجارتی بندرگاہ کا مرکز ہے۔ نئے روڈ برج کی تعمیر سے قبل دریائے یالو پر قائم پل سڑک اور ریلوے دونوں کے لئے استعمال ہوتا تھا جسے چین۔ڈی پی آر کے دوستی پل بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم پرانے پل پر سڑک کے ذریعے یکطرفہ آمدورفت کے لئے صرف ایسے ٹرکوں کو گزرنے کی اجازت تھی جن کا وزن 20 ٹن سے زیادہ نہ ہو۔
چین اور ڈی پی آر کے نے 2010 میں پرانے پل سے دریا کی زیریں جانب ایک نیا روڈ برج تعمیر کرنے پر اتفاق کیا تھا۔


