بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ حالیہ جی 20وزرائے تجارت اجلاس کے دوران چین نے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے دیگر اراکین کے ساتھ بات چیت اور تعاون کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کیا۔
وزارت کے ترجمان نے یہ ریمارکس اجلاس سے متعلق میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں دیئے جو 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کو امریکہ کے شہر ملواؤکی وسکونسن میں ہوا۔
اراکین نے جی 20 کے صدر امریکہ کے مجوزہ امور پر تبادلہ خیال کیا جن میں خوراک کو ہتھیار بنانے کی مخالفت، اضافی پیداواری صلاحیت سے نمٹنے، جبری مشقت کے خاتمے اور سب سے زیادہ پسندیدہ ملک کے اصول میں ترمیم کرنا شامل تھے۔
وزارت کے مطابق تنظیم کے اراکین نے خوراک کو ہتھیار بنانے کی مخالفت کا مشترکہ بیان جاری کیا تاہم باقی معاملات پر کوئی نتیجہ خیز دستاویز جاری نہیں کی گئی۔
ترجمان نے کہا کہ اجلاس کے دوران چین نے وسیع النظری اور تعاون کا رویہ اپناتے ہوئے مباحثوں میں تعمیری انداز میں حصہ لیا اور دیگر اراکین کے ساتھ قریبی رابطے برقرار رکھنے اور بات چیت و تعاون کو فروغ دینے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
وزارت نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ چین نے اپنے اصولوں پر سختی سے عمل کیا، چین اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مفادات کا پرعزم طریقے سے تحفظ کرتے ہوئے جی 20 کے اندر اتحاد اور تعاون کو فروغ دینے کے لئے کام کیا۔
ترجمان نے بتایا کہ خوراک کے مسئلے کے حوالے سے چین سمیت کئی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور ترقی پذیر اراکین نے یہ موقف پیش کیا کہ خوراک درآمد اور برآمد کرنے والے ممالک کو مشترکہ طور پر خوراک کی ترسیل کے مستحکم نظام کا تحفظ کرنا چاہیے، تمام فریقوں کو ملکی عوامی پالیسی کے مقاصد اور خوراک کے تحفظ کے لئے اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔


