جینان (شِنہوا) گدھوں کی صنعت چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون میں ایک نئی کڑی کے طور پر ابھر رہی ہے۔
پہلے گدھے کی کھال سے تیار ہونے والی روایتی چینی دوا ای جیاؤ کی معروف چینی پروڈیوسر کمپنی ڈونگ ای-ای جیاؤ کمپنی لمیٹڈ نے چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ کے شہر لیاؤچھینگ میں پاکستان کے ہان گینگ گروپ کے ساتھ تزویراتی تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے جس کے تحت ہان گینگ گروپ کو پاکستان میں اس کمپنی کا واحد تزویراتی شراکت دار مقرر کیا گیا۔
معاہدے کے تحت دونوں فریق پاکستان میں گدھوں کی صنعت کو زیادہ سائنسی، معیاری، قابل نگرانی اور پائیدار انداز میں ترقی دینے کے لئے مل کر کام کریں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مویشی پالنے اور زراعت کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا ہوگا۔

ڈونگ ای-ای جیاؤ کمپنی لمیٹڈ اور پاکستان کے ہان گینگ گروپ دونوں کمپنیوں کے نمائندگان اجلاس میں شریک ہیں۔(شِنہوا)
معاہدے کے تحت ہان گینگ گروپ کو پاکستان ڈونکی انڈسٹری ریسرچ سنٹر اور گدھوں کی پائیدار ترقی و بہبود کے فروغ کے یونٹ کے قیام کی اجازت دی گئی ہے، جس کی منظوری 10 سال کے لئے موثر ہوگی۔ دونوں فریق مشترکہ طور پر گدھوں کی صنعت سے متعلق ایک لیبارٹری میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس میں نسل کی بہتری، حیوانی غذائیت، بیماریوں کی روک تھام اور ان پر قابو پانے اور صنعتی معیارات وضع کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
چائنہ ریسورسز فارماسیوٹیکل گروپ کی ذیلی کمپنی ڈونگ ای-ای جیاؤ، ای جیاؤ کی تیاری کے لئے بنیادی خام مال کے طور پر گدھے کی کھال استعمال کرتی ہے۔ لیاؤچھینگ کے ڈونگ ای کاؤنٹی، جہاں یہ کمپنی قائم ہے، نے ڈونگ ای بلیک ڈونکی کو ایک اہم صنعت کے طور پر ترقی دی ہے اور بڑے پیمانے پر افزائش نسل، گہری پروسیسنگ، حیاتیاتی ادویات، ثقافتی سیاحت اور دیگر شعبوں کو مربوط کرتے ہوئے ایک مکمل صنعتی سلسلہ قائم کیا ہے۔ کاؤنٹی میں ای جیاؤ تیار کرنے والی 100 سے زیادہ کمپنیاں موجود ہیں، جبکہ اس صنعتی کلسٹر کی مجموعی پیداوار کی مالیت 10 ارب یوآن (تقریباً 1.49 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر چکی ہے۔
صوبے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ہیڈکوارٹر رکھنے والے ہان گینگ گروپ نے مقامی سطح پر ایک مربوط صنعتی سلسلہ قائم کیا ہے، جس میں افزائش نسل کے لئے جانوروں کا انتخاب، بڑے پیمانے پر پرورش، معاہداتی بنیادوں پر فارمنگ، جانوروں کی سراغ رسانی، ذبح اور پروسیسنگ اور چین کو برآمدات شامل ہیں۔
ہان گینگ گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈی لیاؤ نے کہا کہ "ڈونگ ای-ای جیاؤ کو روایتی چینی ادویات کی تحقیق و ترقی، معیارات، برانڈ سازی اور گدھوں کی صنعت سے متعلق تحقیق میں وسیع مہارت حاصل ہے۔ اس تعاون سے چینی کمپنیوں کے مضبوط صنعتی وسائل اور تحقیقی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔”
چین نے گدھوں کی صنعت میں افزائش نسل، نقل و حمل، ذبح، گدھے کے گوشت کی فروخت، ای جیاؤ کی تیاری، صحت کی دیکھ بھال اور سیاحت سمیت نسبتاً مکمل صنعتی سلسلہ تیار کر لیا ہے، تاہم اس شعبے کو اب بھی معیاری افزائش نسل اور گہری پروسیسنگ جیسے شعبوں میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ صنعتی تجزیوں کے مطابق چین میں گدھے کی کھال اور گوشت کی مقامی طلب بدستور مضبوط ہے اور آئندہ 3 سے 5 برسوں کے دوران بھی اس کے برقرار رہنے کی توقع ہے۔
پاکستان میں دنیا کی تیسری سب سے بڑی گدھوں کی آبادی ہے، تاہم اس صنعت کو افزائش نسل کی ٹیکنالوجیز کے ناکافی فروغ، ہنرمند افرادی قوت کی کمی، مارکیٹ تک محدود رسائی، لین دین کے زیادہ اخراجات اور بیماریوں سے بچاؤ اور ان پر قابو پانے کی کمزور صلاحیتوں سمیت متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
تعاون کے معاہدے کے تحت ڈونگ ای-ای جیاؤ سائنسی تحقیق، نسلوں کی بہتری، معیارات، پیشہ ورانہ تربیت اور سپلائی چین کی ترقی میں معاونت فراہم کرے گی۔ دونوں فریق بڑے پیمانے پر گدھوں کی فارمنگ، بیماریوں کی نگرانی، گدھوں کے جینیاتی وسائل کے تحفظ اور ابتدائی مرحلے پر معیاری رجسٹریشن کو مشترکہ طور پر فروغ دیں گے۔
پاکستانی فریق فارموں، افزائش نسل کے ریکارڈ اور بیماریوں کی جانچ کے لئے رجسٹریشن کے نظام کو بہتر بنائے گا تاکہ مصنوعات کی نگرانی اور ابتدائی مرحلے پر ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
دونوں فریق متعلقہ حکام کے ساتھ ویٹرنری سرٹیفکیشن، قرنطینہ، کسٹمز کے طریقہ کار اور نگرانی کی تصدیق کے شعبوں میں بھی تعاون کریں گے تاکہ چین کو ضوابط کے مطابق برآمدات میں سہولت پیدا کی جا سکے۔
تکنیکی تعاون میں افزائش نسل کی ٹیکنالوجی، غذائیت اور خوراک، بیماریوں سے بچاؤ اور ان پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ذبح اور پروسیسنگ کی سہولیات کو جدید بنانا شامل ہوگا۔چینی مارکیٹ تک رسائی اور حفاظتی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ذبح، پروسیسنگ، ذخیرہ اندوزی اور کولڈ چین کے انتظام میں بھی معیاری نظام متعارف کرایا جائے گا۔
حالیہ برسوں میں چین اور پاکستان کی کمپنیوں نے گدھوں کی صنعت میں وسیع پیمانے پر تبادلے اور تعاون کیا ہے۔ مارچ 2025 میں شان ڈونگ کے شہر لیاؤچھینگ میں چین پاکستان گدھا صنعت تعاون و تبادلہ کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس کا مقصد پاکستان میں گدھوں کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔
لیاؤ نے کہا کہ یہ تعاون پاکستان میں گدھوں کے شعبے کو معیاری اور جدید بنانے اور بین الاقوامی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ اس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کسانوں کی آمدنی بڑھانے، ویٹرنری صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور مویشیوں سے زیادہ قدر حاصل کرنے کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔


