ڈھاکا (لارڈ میڈیا): بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں بڑھتے ہوئے کرایوں اور رہائش کے بحران نے طلبہ اور نوجوان ملازمین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں نوجوان مشترکہ یا سب لیٹ رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
ڈھاکا کے علاقے عظیم پور میں چاپرا مسجد کے قریب اسٹاف کوارٹرز کی ایک پرانی عمارت کی دوسری منزل پر ایک تنگ کمرے میں چار افراد رہتے ہیں، جن میں تین یونیورسٹی طلبہ اور ایک ملازمت پیشہ خاتون شامل ہیں۔ کتابوں، بیگوں اور کھانا پکانے کے برتنوں سے بھرا یہ کمرہ شہر میں رہائش کے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
بہت سے طلبہ یونیورسٹی ہاسٹل میں جگہ ملنے کے انتظار میں ہیں، جبکہ دیگر اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے مشترکہ رہائش کو واحد قابلِ عمل حل سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب دور دراز علاقوں سے روزانہ سفر کے بڑھتے اخراجات اور مسلسل بڑھتے کرائے بھی نوجوانوں کو سب لیٹ یا شیئرڈ رہائش کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
تیزی سے بڑھتی شہری آبادی اور مسلسل شہری توسیع نے ڈھاکا کی رہائشی منڈی پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ بنگلہ دیش بیورو آف اسٹیٹسٹکس (BBS) کے مطابق 2023 میں ڈھاکا ڈویژن کے تقریباً 45 فیصد گھرانے کرائے یا سب لیٹ پر رہ رہے تھے، جبکہ ملک بھر میں یہ شرح 19.08 فیصد تھی۔
ادارے کے مطابق ڈھاکا ڈویژن میں ہاؤس رینٹ انڈیکس میں سالانہ بنیاد پر 6.20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مختلف تحقیقی مطالعات کے مطابق ڈھاکا کے متوسط آمدنی والے کرایہ دار اپنی آمدنی کا 30 فیصد سے زیادہ حصہ کرائے کی مد میں خرچ کرتے ہیں، جو رہائش کی استطاعت کے عالمی معیار سے زیادہ ہے۔
2025 میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ موگ بازار کے علاقے نیاٹولا میں رہنے والے بہت سے خاندان اس حد سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں۔ اسی طرح اسٹیٹ آف سٹیز 2017 رپورٹ کے مطابق 77 فیصد گھرانے اپنی استطاعت سے زیادہ کرایہ ادا کر رہے تھے، جبکہ بجلی، گیس اور دیگر سہولیات کے اخراجات شامل کیے جائیں تو 82 فیصد خاندانوں کے لیے رہائش غیر متحمل بوجھ بن چکی تھی۔
یہ صورتحال خصوصاً طلبہ اور کم آمدنی والے نوجوان ملازمین کے لیے زیادہ سنگین ہے، جو نہ صرف ماہانہ کرائے بلکہ بڑی پیشگی رقم اور سیکیورٹی ڈپازٹ ادا کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔
ڈھاکا یونیورسٹی، جہاں تقریباً 41 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں، اپنی رہائشی ہاسٹلوں میں صرف 9,005 طالبات کو رہائش فراہم کر سکتی ہے، جبکہ تقریباً 9,897 طالبات ہاسٹل کی سہولت سے محروم ہیں، جس کے باعث انہیں نجی رہائش یا مشترکہ کمروں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سستی رہائش کی فراہمی اور شہری منصوبہ بندی کے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ڈھاکا میں رہائشی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔


