واشنگٹن (لارڈ میڈیا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جو ممالک ایران کو کسی قسم کی مدد فراہم کریں گے انہیں سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کو مالیاتی یا کسی بھی قسم کی معاونت فراہم کرنے والوں کے خلاف غیر معمولی معاشی جنگ اور تنہائی کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کی مدد کرے گا، اسے شدید معاشی نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن اقدامات کا سہارا لیا جائے گا اور نہ ہی کسی مخصوص ملک کا نام لیا۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں امریکی شمولیت کے باعث خطے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ خلیجی ممالک بھی اس تنازع کے اثرات سے متاثر ہوئے ہیں۔
جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جس سے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔ عالمی منڈی میں تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔
امریکا اور ایران نے دو جنگ بندی معاہدے کیے تھے جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو معمول پر لانا تھا، تاہم یہ معاہدے ناکام ہوگئے۔ اسی دوران متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا۔
چین ایران سے 80 فیصد سے زائد تیل خریدتا ہے۔ مبصرین کے مطابق چین پر مزید معاشی دباؤ ڈالنے سے امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔


