ہومتازہ ترینخلع خواتین کا آئینی حق، اس پر تشدد آئین پر حملہ: سپریم...

خلع خواتین کا آئینی حق، اس پر تشدد آئین پر حملہ: سپریم کورٹ

اسلام آباد (لارڈ میڈیا): سپریم کورٹ پاکستان نے خواتین کے خلع کے حق کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے اس پر تشدد کو آئین پر حملہ تصور کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے مجرم وسیم عباس کی جیل پٹیشن مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔ جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی جانب سے تحریر کردہ 4 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا۔

عدالت نے آئین کے آرٹیکلز 9، 14 اور 25 کے تحت خواتین کو تحفظ اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ خلع کا قانونی حق استعمال کرنے پر کسی خاتون کو تشدد یا قتل کرنا قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ خلع مانگنے والی خواتین پر تشدد کرنے والوں کے ساتھ قانون سختی سے نمٹے گا اور مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔

فیصلے کے مطابق گھریلو حدود میں ہونے والے جرم میں رشتہ داروں کی گواہی کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے گولیوں کے خول اور پستول کے فارنسک میچ کو ناقابل تردید ثبوت قرار دیا۔ مقدمے کے مطابق ملزم وسیم عباس نے 11 اکتوبر 2020 کو اپنی سابقہ بیوی شہناز بی بی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ مقتولہ نے فیملی کورٹ سے خلع کی ڈگری حاصل کی تھی اور 48 گھنٹے بعد ملزم نے طلاق کی رنجش میں اسے قتل کیا۔

ٹرائل کورٹ نے ملزم کو قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، جو اعلیٰ عدالت نے بھی برقرار رکھی۔ سپریم کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے میں کوئی قانونی نقص نہ ہونے کا اعلان کیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں