لاہور (لارڈ میڈیا): پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پلاسٹک کے کوڑے سے سستا پٹرول و ڈیزل بنانے کی انقلابی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ملک میں ہر سال لاکھوں ٹن پولی تھین پلاسٹک کوڑا پیدا ہوتا ہے، جو اکثر گلیوں اور سڑکوں میں بدبو پھیلاتا ہے۔ اب اس کوڑے سے چھٹکارا پانے کا مفید طریقہ سامنے آیا ہے۔
امریکی سرکاری تحقیقی ادارے اوک رج نیشنل لیبارٹری سے وابستہ ماہرین نے تجربات کے ذریعے دریافت کیا ہے کہ اگر پلاسٹک کوڑے میں المونیم کلورائیڈ کی پگھلی نمکیات ملا کر اسے دو سو ڈگری درجہ حرارت پر بھٹی میں گرم کیا جائے تو اس کا 60 فیصد حصہ پٹرول یا ڈیزل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
یہ طریقہ سادہ ہے اور صرف پگھلی نمکیات اور بھٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے جس سے دو بڑے فوائد حاصل ہوں گے۔ ایک تو پلاسٹک کے مضر کوڑے سے نجات ملے گی اور دوسرا سستا پٹرول و ڈیزل دستیاب ہوگا۔


