ہوماہم ترینچین اور پاکستان نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ذریعے ترقی کے فروغ کے...

چین اور پاکستان نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ذریعے ترقی کے فروغ کے لئے اے آئی تعاون کو وسعت دے دی

گوئی یانگ (شِنہوا) صوبہ پنجاب کے ایک چھوٹے کسان کے لئے چین پاکستان ٹیکنالوجی تعاون کا اگلا مرحلہ اس بات کا باعث بن سکتا ہے کہ اسے شدید موسم کی آمد سے پہلے ہی انتباہ مل جائے یا وہ صرف کھیت سے فصل کی تصویر بھیج کر فصل کی بیماری کی نشاندہی کر سکے۔
پنجاب کے وزیر زراعت سید محمد عاشق حسین شاہ نے جمعرات کو چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو کے دارالحکومت گوئی یانگ میں کہا کہ ’’ہم اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ان تک پہنچنا چاہتے ہیں تاکہ وہ گھر بیٹھے صرف اپنے پودے کی تصویر بھیج سکیں۔‘‘
شاہ 28 سے 30 اگست تک جاری رہنے والی چائنہ انٹرنیشنل بگ ڈیٹا انڈسٹری ایکسپو 2026 سے قبل گوئی یانگ کا دورہ کرنے والے پنجاب کے وفد کا حصہ ہیں۔ وفد کے لئے یہ دورہ اس بات کا جائزہ لینے کا موقع ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پاکستان میں زراعت، صحت، تعلیم اور عوامی خدمات کے شعبوں میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
زرعی مشینری سے مصنوعی ذہانت تک
چین اور پنجاب کے درمیان زرعی تعاون کی پہلے ہی مضبوط بنیاد موجود ہے۔ شاہ نے بتایا کہ پنجاب نے چین کے سابقہ دوروں کے بعد کم از کم 6 یا 7 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں اور ان پر فعال طور پر پیش رفت کی جا رہی ہے۔
چینی کمپنیوں نے پنجاب کے ہائی- ٹیک زرعی میکانائزیشن پروگرام میں بھی حصہ لیا ہے۔ شاہ کے اندازے کے مطابق اس پروگرام کے تحت حاصل کی گئی زرعی مشینری، جن میں ہارویسٹرز اور ٹریکٹرز شامل ہیں، کا تقریباً 90 فیصد حصہ چین سے آیا ہے۔
صوبائی زرعی حکام اب ایک ایسے اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل مانیٹرنگ نیٹ ورک کو تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں جو کسانوں کو موسم کی پیشگوئی، فصلوں کی نگرانی اور مٹی، پانی اور کیڑے مارنے کے کنٹرول سے متعلق معلومات فراہم کر سکے۔
چھوٹے کاشتکاروں کے لئے اس کی ضرورت خاص طور پر زیادہ ہے۔ شاہ نے بتایا کہ پنجاب کے تقریباً 97 فیصد کسان چھوٹے کاشتکار ہیں۔ ان میں سے بہت سے قابل اعتماد معلومات تک محدود رسائی رکھتے ہیں، جبکہ غیر متوقع بارشیں، خشک سالی اور گرمی کی لہریں زرعی پیداوار کے لئے نئے خطرات پیدا کر رہی ہیں۔
شاہ نے کہا کہ چین کے ساتھ زرعی اے آئی تعاون ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لئے شراکت دار تلاش کرنا اور چین کے تجربات سے سیکھنا موجودہ دورے کے اہم مقاصد میں شامل ہیں۔

سید محمد عاشق حسین شاہ چین کے صوبے گوئی ژو کے شہر گوئی یانگ میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے حوالے سے گوئی ژو اقتصادی و تجارتی تعاون کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

موجودہ اے آئی تعاون کو آگے بڑھانا

چین اور پنجاب کے درمیان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں مزید گہرے تعاون کے لئے پہلے ہی بنیاد موجود ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے مصنوعی ذہانت اور خصوصی اقدامات علی مصطفیٰ ڈار نے بتایا کہ پنجاب سمارٹ سٹیز، اے آئی اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے بھی سمارٹ سٹی اور عوامی تحفظ کی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے ہواوے سمیت چینی کمپنیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے۔

ڈار نے کہا کہ اگلا قدم اس تکنیکی بنیاد کو عملی فوائد میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے۔ پنجاب کے اے آئی وژن 2029 کے تحت صحت، زراعت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور حکومتی خدمات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس سے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آتی ہے؟‘‘

ڈار نے مزید بتایا کہ پنجاب، حکومتی امور کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی لا رہا ہے۔ اے آئی دفتر کے ذریعے صوبے نے مصنوعی ذہانت سے فعال ایک ڈیلیوری یونٹ قائم کیا ہے، جس کا مقصد اے آئی وژن کو حکمت عملی سے قابل پیمائش عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ یونٹ مختلف محکموں کے ساتھ مل کر ترجیحی مسائل کی نشاندہی، اقدامات کی پیش رفت کی نگرانی، فیلڈ سے حاصل شدہ اعداد و شمار کی تشریح کے لئے اے آئی کے استعمال، رکاوٹوں کی نشاندہی اور اس بات کے باقاعدہ جائزے پر کام کرتا ہے کہ آیا اقدامات سے شہریوں کے لئے نتائج میں بہتری آ رہی ہے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ یونٹ چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور تحقیقی اداروں کو حکومت کے ساتھ واضح طور پر متعین مسائل پر کام کرنے، پنجاب میں حل آزمانے اور کامیاب حل کو بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کا راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔ ڈار نے کہا کہ ’’ہمارے لئے اے آئی پالیسی بالآخر اسی وقت بامعنی بنتی ہے جب وہ عملی خدمات کی فراہمی میں تبدیل ہو۔‘‘

چین کے پہلے قومی جامع بگ ڈیٹا پائلٹ زون کے طور پر گوئی ژو اس تعاون میں ایک نیا رابطہ قائم کر سکتا ہے۔ ڈار نے کہا کہ پنجاب کو ڈیٹا انفراسٹرکچر اور اے آئی کے عملی استعمال کے حوالے سے صوبے کے تجربے میں دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض ٹیکنالوجی درآمد کرنے کے بجائے دونوں جانب کی ٹیمیں حقیقی مسائل کی نشاندہی کریں، مل کر حل تیار کریں، انہیں پنجاب میں آزمائیں اور کامیاب حل کو بڑے پیمانے پر نافذ کریں۔

کاروباری سطح پر بھی تعاون پہلے سے جاری ہے۔ گوئی یانگ فانگ ژو ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ نے 2016 میں پاکستان میں قدم رکھا اور وہاں شہری ڈیجیٹل نظام اور متعلقہ منصوبوں پر کام کیا ہے۔ کمپنی کے صدر لو گانگ جو نے کہا کہ وہ اب پاکستان میں مقامی سطح پر کام کو مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں، جس کے تحت ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کی زیادہ سے زیادہ مقامی پیداوار اور مقامی صلاحیتوں کے زیادہ استعمال کی جانب پیش رفت کی جائے گی۔

ڈار نے کہا کہ پاکستان کے لئے تعاون کے اگلے مرحلے کا مقصد بہتر عوامی خدمات، مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مضبوط بنانا اور نوجوانوں کے لئے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عملی طور پر اے آئی تعاون کسی کسان کو فصل محفوظ رکھنے، کسی مریض کو بہتر طبی سہولت حاصل کرنے یا کسی نوجوان پاکستانی کو نئی ٹیکنالوجی سے متعلق ملازمتوں کے لئے مہارت حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں