واشنگٹن (لارڈ میڈیا) پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کرے۔ سفیر نے کہا کہ بھارتی یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیاء کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
امریکی میگزین میں اپنے مضمون میں پاکستانی سفیر نے بھارت کے سفیر کے مضمون کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی ساخت اور افادیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
سفیر رضوان سعید شیخ نے وضاحت کی کہ یہ معاہدہ بھارت کی فیاضی نہیں بلکہ ایک عشرے کے مذاکرات کا نتیجہ تھا، اور اس کی تعمیل دونوں فریقوں پر لازم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت بھارت کو راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں کا حق ملا، جبکہ پاکستان کو دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا حق دیا گیا۔
پاکستانی سفیر نے بھارت کی ان شکایات کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان نے بھارتی ہائیڈروپاور منصوبوں میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے تصدیق کی ہے کہ مغربی دریاؤں پر منصوبے متعین حدود کے مطابق ہوں۔
سفیر نے واضح کیا کہ معاہدے کی خلاف ورزی یا اس کے تحریر نو کا بھارت کو یکطرفہ حق نہیں۔ مذاکرات اور تنازعہ حل کرنے کے میکانزم کو فعال بنانے کی ضرورت ہے۔


